خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 522

خطبات محمود ۵۲۲ سال ۱۹۳۳ء ظاہر ہو۔پھر فرمایا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔یاد رکھو یہ مصیبت نہیں۔اگر کوئی دکھ کی چیز ہو تو انسان کہہ سکتا ہے کہ میں دکھ میں کیوں پڑوں مگر فرمایا روزے تمہارے لئے تقویٰ کا باعث ہیں اور بظاہر یہ ہلاکت کا ذریعہ معلوم ہوتے ہیں کیونکہ انسان فاقہ کرتا ہے، جاگتا ہے، بے وقت کھاتا پیتا ہے جس سے معدہ خراب ہو جاتا ہے، پھر ساتھ ہی اس کے یہ احکام ہیں کہ صدقہ و خیرات زیادہ کرو غرباء کی پرورش کا زیادہ خیال رکھو گویا ایک طرف جسمانی اور دوسری طرف مالی نقصان ہے۔رمضان میں انسان اپنے مال سے آپ فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ روزہ سے ہوتا۔ہے لیکن دوسروں پر خرچ کرتا ہے۔ان دنوں وہ ایک طرح اپنے مال کا متولی بن جاتا ہے اپنے لئے صرف قوت لایموت مہیا کرتا ہے اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔پھر فرمایا الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکین ہے۔یعنی جس میں طاقت ہو وہ غریبوں کو کھانا کھلائے۔بظاہر ب سب تباہی کے سلمان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے۔نجات اُخروی کا باعث نہیں بتایا بلکہ تتقون فرمایا ہے یعنی تمہارے دینی اور دنیوی دونوں قسم کے فوائد اور کامیابیاں اس میں ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے فوائد ہیں جو روزے سے حاصل ہوتے ہیں۔ایسے فوائد بیسیوں نہیں مگر میں ان سب کو اس وقت گنا نہیں سکتا اور اس وقت صرف ایک روحانی فائدہ کا ذکر کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ روزہ سے انسان اللہ تعالیٰ سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔خدا تعالی کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نیند سے بری ہے انسان ایسا تو نہیں کرتا مگر اپنی نیند کے ایک حصہ کو روزوں میں خدا کیلئے قربان ضرور کرتا ہے۔سحری کھانے کیلئے اٹھتا ہے، تہجد پڑھتا ہے، عورتیں جو روزہ نہ بھی رکھیں وہ سحری کے انتظام کیلئے جاگتی ہیں، کچھ وقت دعاؤں میں اور کچھ نمازوں میں جاگنا پڑتا ہے اور اس طرح رات کا بہت کم حصہ سونے کیلئے باقی رہ جاتا ہے اور کام کرنے والوں کیلئے تو دو تین ہی گھنٹے نیند کیلئے باقی رہ جاتے ہیں۔اس طرح انسان کو اللہ تعالیٰ سے ایک مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔پھر اللہ تعالٰی کھانے پینے سے پاک ہے انسان کھانا پینا بالکل تو نہیں چھوڑ سکتا مگر پھر بھی رمضان میں اللہ تعالیٰ سے وہ ایک قسم کی مشابہت ضرور پیدا کرلیتا ہے کیونکہ وہ کچھ عرصہ کھانا نہیں کھاتا۔پھر جس طرح اللہ تعالی سے خیر ہی خیر ظاہر ہوتا ہے، اسی طرح انسان کو بھی روزوں میں خاص طور پر نیکیاں کرنے کا حکم ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص غیبت، چغلی، بدگوئی وغیرہ بُری باتوں سے پر ہیز نہیں کرتا اس کا روزہ نہیں ہوتا ہے۔گویا مومن بھی کوشش کرتا۔۔