خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 515

خطبات محمود ۵۱۵ ۱۹۳۴ء رکھے نہ جاسکتے تھے۔اللہ تعالٰی نے اس اصل کے مطابق کہ ایک نیکی کا ثواب کم سے کم دس ملتا ہے ایک ماہ کے روزے مقرر کر دیئے اور اس طرح رمضان سارے سال کے روزوں کا قائمقام ہو گیا اور جس نے اس میں روزے رکھ لئے، اس نے گویا سارے سال کے روزے رکھ لئے اور اس طرح اس کی زندگی واقعی زندگی ہو گئی۔پھر فرمایا وَلِتُكَبِرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدُكُمْ یہ دن اس لئے ہیں کہ تا اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر اس کی تکبیر کرو۔یہ نہیں کہ شکوہ کرو کہ ہمیں بھوکا رکھا بلکہ یہ سمجھو کہ بڑا احسان کیا کہ روزہ جیسی نعمت ہمیں عطا کی۔یہاں مومن کا نقطہ نگاہ واضح کیا گیا ہے کہ اسے قربانی کا جو موقع ملے وہ اسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہے اور جس قوم کا یہ نقطہ نگاہ ہو جائے پھر اسے کوئی تباہ نہیں کر سکتا اور وہ ضرور کامیاب ہو کر رہتی ہے۔ایسی قوم حقیقی معنوں میں زندہ قوم ہو جاتی جب ایک شخص کے دل میں یہ خیال ہو کہ مجھ پر جو دینی ذمہ داریاں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہیں تو وہ اس کی بڑائی کرے گا اور جو خدا کی بڑائی کرے، خدا اس کی بڑائی کرتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تمہیں جو کوئی تحفہ دے، تم اسے اس سے بہتر واپس کرو اور جب ہمیں یہ حکم دیا تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی خود ایسا نہ کرے۔انسان اس کی خدمت میں تحفہ پیش کرے اور وہ اس سے بہتر ا سے نہ دے۔پس جو خدا کی بڑائی کرتا ہے خدا ضرور اس کی بڑائی کرتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تکبیر صرف منہ سے نہ ہو جیسے احراری کرتے ہیں۔وہ بھی اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہیں مگر دراصل وہ اللہ اکبر نہیں بلکہ اللہ اصغر کہتے ہیں کیونکہ ان کی کوششیں خدا کا نام اونچا کرنے کیلئے نہیں بلکہ نچا کرنے کیلئے ہوتی ہیں۔وہ پورا زور لگارہے ہوتے ہیں کہ دین ذلیل اور بدنام ہو۔وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام ایسا مذہب ہے جس کے پیرو اوباش اور آوارہ لوگ ہی ہوتے ہیں جو دوسروں کو گالیاں دیتے اور پتھر مارتے ہیں۔پس اللہ تعالی ایسے نعروں سے خوش نہیں ہو سکتا۔جس تکبیر سے وہ خوش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ گالیاں کھاؤ، ماریں کھاؤ پتھر کھاؤ اور پھر اللہ تعالی کی تکبیر کرو کہ اس نے ہمیں یہ مواقع عطا کئے ہیں۔مجھ حقیقی تکبیر یہی ہے کہ جتنا زیادہ ظلم ہو، اتنا ہی زیادہ انسان اللہ تعالی کی طرف مجھکے کہ پر اس کے کتنے احسان ہو رہے ہیں۔جب اس پر مصیبت نازل ہو وہ اللہ تعالی کی تکبیر کرے اور اس کی بڑائی بیان کرے۔ایسے شخص کی تکبیر کے بدلہ میں اللہ تعالٰی اس کو بڑھاتا