خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 511

خطبات محمود ۵۱۱ سال ۱۹۳۴ء حرکت ایسی پسند آئی کہ رسول کریم کو وحی کے ذریعہ اس سے آگاہ کیا اور جب وہ صحابی اگلے روز حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہنس کر فرمایا کہ کل رات تو تم نے خوب لطیفہ کیا۔وہ صحابی گھبرائے کہ شاید میرے متعلق کوئی شکایت کسی نے کردی ہے مگر آپ " نے فرمایا کہ تمہاری اس بات کو دیکھ کر اللہ تعالٰی بھی ہنسا اور میں بھی ہنستا ہوں : اللہ تعالی کی نفسی کے یہ معنے نہیں کہ اس کے دانت اور ہونٹ ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی خوش ہوا۔اس نے اس نکتہ کو نوازا اور اس کے عوض ان کے نام پر نیکیاں لکھیں۔تو بعض دفعہ چھوٹی باتیں بھی خدا کو پیاری لگتی ہیں۔سبقت کرنے والوں کی بعض باتیں بظاہر بیوقوفی کی ہوتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہت مقبول ہوتی ہیں۔ہاں اگر ان کے اندر ریاء ہو تو پھر وہ لعنت بن کر گلے کا طوق بن جاتی ہیں۔غرض یہ دن جو آئے ہیں، یہ اللہ تعالی کے فضل سے رحمت کا موجب ہیں اور اگر ان سے فائدہ اٹھایا جائے تو عظیم الشان تغیر ہم اپنے اندر پیدا کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی بعض ایسی باتیں ظاہر ہو رہی ہیں کہ اللہ تعالی انہیں ہمارے لئے بہت برکت کا موجب بنائے گا۔ضرورت صرف استقلال کی ہے اُسی استقلال کی جو اس رمضان والے نے دکھایا۔اسے ہر روز دق کیا جاتا اور سمجھ لیا جاتا کہ اب اس کی زبان ہم نے بند کر دی مگر دوسرے روز محمد رسول اللہ ا پھر وہی بات پیش کر دیتے۔پس ضرورت ہے کہ دنیا ہم کو بے شرم کے بے حیاء کے ، پاگل کے لوگ کہیں کہ یہ بہت بے شرم ہیں ہم نے ان کو سو دفعہ منع کیا ہے ، کہ ہمارے سامنے یہ باتیں نہ کیا کرو مگر باز نہیں آتے، یہ پاگل ہو گئے ہیں اور ان میں عقل کی کمی ہے۔جب یہ بات پیدا ہوگی تو پھر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہو گا۔قرآن کریم کے بعد کسی نئے کلام کی تو ضرورت نہیں اور جو نیا اترے بھی وہ اس کے تابع ہوتا ہے اس لئے کلام الہی کے نزول سے میرا مطلب یہ ہے کہ یہی کلام دوبارہ انسان کے دل پر اُترتا ہے جو اس غار حرا والے کی اتباع کرے۔اس پر ایسے ایسے قرآن کریم کے معارف کھولے جاتے ہیں کہ وہ خود حیران رہ جاتا ہے کہ یہ قرآن تو پہلے بھی موجود تھا مگر اب تو یہ بالکل نیا معلوم ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قبل دنیا میں قرآن تو موجود تھا مگر کس کام آتا تھا۔ایک مصری عالم نے ایک مضمون لکھا تھا کہ ہمارے ملک ، قرآن کس کام آتا ہے لوگ اسے اچھے اچھے غلافوں میں لپیٹ کر طاقچوں میں رکھ چھوڑتے ہیں اور کبھی گرد بھی نہیں جھاڑتے یا کسی نے