خطبات محمود (جلد 15) — Page 512
خطبات محمود ۵۱۲ سال۔بہت کیا تو کسی وقت اٹھایا اور بوسہ لے کر پھر وہیں رکھ دیا یا جھوٹ کو سچ کرنے کیلئے عدالت میں اس پر ہاتھ رکھ کر سنجیدگی سے قسم کھالی یا جب کوئی مرجائے اور قرآن شریف سے فائدہ اٹھانے کا وقت اس کیلئے گزر جائے تو کسی کو پیسے دے کر اس کی قبر پر پڑھوا دیا۔ہمارے اپنے ملک میں بھی لوگ آٹھ آٹھ آنے اور چار چار آنے لے کر قرآن کریم کی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اس حد تک اس سے ناواقف ہیں کہ کسی جج نے کسی مسلمان زمیندار سے پوچھا کہ کیا قرآن اٹھاسکتے ہو۔اس نے کہا حضور اگر بوجھ ایک من تک ہوا تو اُٹھالوں گا لیکن چونکہ بوڑھا ہو گیا ہوں، اس لئے اس سے زیادہ نہ اٹھا سکوں گا۔گویا قرآن اٹھانے کیلئے جسمانی طاقت کو دیکھتے ہیں کہ کتنا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جھوٹی قسم کا بوجھ اٹھانے کی طاقت روح میں ہے یا نہیں۔تو قرآن کی حقیقت باقی نہ تھی۔اس کے مضامین کو اس قدر بگاڑا جاچکا تھا کہ وہ بجائے قابل فخر ہونے کے قابل نفرت ہو گئے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس غار حرا والے کے نقش قدم پر چل کر قربانی کی اس کا کیا نتیجہ نکلا۔وہی قرآن آپ کے ہاتھ میں تھا مگر وہ اژدھا بن گیا، ان حشرات الارض کیلئے جن کے وجود سے دنیا کو پاک کرنا ضروری تھا، وہ تلوار بن گیا ان دجالی لوگوں کیلئے جن کا زندہ رہنا دنیا کی تباہی کا موجب تھا۔ہم قرآن کو جہاں سے بھی کھولتے ہیں اسے نور بینات اور فرقان سے پُر دیکھتے ہیں۔لوگ پوچھتے ہیں کہ قرآن میں ہے کیا؟ ہم اپنے نفس سے پوچھتے ہیں کہ کونسی آیت قرآن کریم کی ایسی ہے کہ جس کے مطالب و معانی کبھی ختم بھی ہو سکتے ہیں۔انہیں قرآن میں کوئی چیز نظر نہیں آتی اور ہمیں اس کے خزانوں کی انتہاء دکھائی نہیں دیتی۔ان کیلئے وہ ایک سیاہ تو ا ہے جسے چھوتے ہی ہاتھ منہ کالا ہو جاتا ہے مگر ہمارے لئے وہ سورج سے بھی زیادہ چمکتا ہوا نور ہے۔ان کیلئے وہ ایک زہر ہے، ایمان کو ہلاک کر دینے والا۔ان میں سے جو لوگ اسے پڑھتے ہیں، وہ زیادہ گمراہ زیادہ دھوکا باز زیادہ فریبی اور زیادہ حریص ہوتے ہیں مگر ہمارے لئے یہ تریاق ہے، تمام روحانی بیماریوں کیلئے۔یہ فرق کیوں ہے؟ اس لئے کہ ہمارے آقا ہمارے ہادی اور ہمارے امام نے محمد رسول اللہ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ آپ سے ہی قرآن سیکھا پھر وہ علم آپ سے ہمیں پہنچا اور اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن ہمارے لئے نیا نازل ہوا ہے۔پس ان مصائب میں قرآن حاصل ہوتا ہے اور ہم اگر ان سے فائدہ اٹھائیں تو قرآن لوہے کا گول ظرف جس پر روٹی پکاتے ہیں