خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 498

خطبات محمود ۴۹۸ سال ۱۹۳۴ء احمدیت میں ابھی تک داخل نہیں، اللہ تعالیٰ انہیں بھی احمدیت میں داخل کرے۔ اصلاح نہ ہو۔ ان کے علاوہ طبقہ امراء میں اور لوگ بھی ہیں جو نہایت مخلص اور کچی قربانی کرنے والے ہیں مگر ان دو کا نام میں نے اس لئے لے دیا ہے کہ ایک تنوع اور دوسرے کی مالی اور تبلیغی قربانیاں بے مثال ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دوسروں کے گھروں کو بھی برکتوں سے بھر دے ان مخلصین کے علاوہ جو لوگ ان سے اثر لیں وہ بھی دوسری اقوام کے امراء سے یقینا بہتر ہیں کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے نور سے حصہ لے اور اس کی کچھ بھی مگر جب تک حقیقی روح قربانی کی پیدا نہ ہو ، خطرہ کا مقام ہے۔ قربانی کی کی روح اور شئے ہے اور قربانی اور کسے ہے۔ انسان کو ابتلاء سے قربانی محفوظ نہیں کرتی بلکہ قربانی کی روح محفوظ کرتی ہے۔ جس میں وہ روح پیدا نہ ہو گو وہ قربانی میں حصہ لے پھر بھی کچے دھاگے کی طرح ہے جس کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ جماعت کے مخلص امراء میں سے سیٹھ عبداللہ بھائی کو ایسا درجہ حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس قسم کے چالیس مومنوں کی خواہش کی تھی، وہ ایسے ہی ہیں۔ ان کا تبلیغی جوش حقیقتاً اس درجہ کا ہے۔ کا ہے کہ صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو تبلیغ میں خدا تعالیٰ کے سامنے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اور ان کی مالی قربانی اس رنگ کی ہے کہ مجھے ان سے بڑے بڑے مطالبہ میں کوئی جھجک نہیں ہو سکتی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان جیسے چالیس آدمی پیدا ہو جائیں تو بہت بڑا انقلاب پیدا ہو سکتا ہے۔ بهر حال اس وقت اخلاص کی ضرورت ہے اور میں نے سلسلہ کے حالات خطرات اور ان کا علاج کھول کھول کر بیان کر دیا ہے۔ اب وہ وقت ہے کہ اگر ہم نے کروٹ نہ بدلی تو ظاہری حالات کے لحاظ سے ہمارا زندہ رہنا مشکل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا تعالی اس سلسلہ کو زندہ رکھے گا مگر ہم نے صحیح قربانی نہ کی تو خدا تعالی ہمیں مٹا کر دوسری قوم کے سپرد یہ کام کرے گا۔ ۔ وہ وہ پہلے تختی کو صاف کرے گا کیونکہ جس سختی پر پر پہلے لکھا جا چکا ہو اس پر اور نہیں لکھا جاسکتا۔ اس وقت ہمارے لئے حالات ایسے ہیں جنہیں عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ میں نے ایک حد تک انہیں ظاہر کیا ہے اور اگر ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اب کروٹ بدلنی اور ہوش میں آنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہر طرف کفر است جو شاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدین