خطبات محمود (جلد 15) — Page 497
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء انجمن احمدیہ میں کام کرتے رہے اور وفاداری اور فرمانبرداری سے کام کیا۔ان کو چونکہ میرے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے، اس لئے مجھے ان کی قدر ہے اور ان کی اولاد نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے باپ کیلئے بھی مجھے پیاری ہے۔اور اب کہ ان کا ذکر آیا ہے میں ان کی اولاد کیلئے دعا کرتا ہوں کہ ان کے دل کا متاع کبھی ضائع نہ ہو۔اگر اللہ تعالی انہیں دنیا کی نعمتیں دے تو یہ اس کا فضل ہے لیکن ان کے دل کی غربت ضرور قائم رہے بلکہ بڑھتی رہے۔کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو دنیوی مال و دولت ایک لعنت ہے۔بڑے میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کے سوا جماعت میں اور مخلص نہیں ہیں۔اور بھی بڑے مخلص ہیں۔ایک سیٹھ عبداللہ بھائی ہیں۔انہوں نے اتنی مالی قربانیاں کی ہیں کہ وہ پہلے حقیقتاً امیر آدمی تھے مگر اب عملاً غریب ہیں۔انہوں نے تبلیغ کا بھی بہت کام کیا ہے۔مالی قربانی انہوں نے بالکل ایسی کی ہے جس طرح سیٹھ عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب نے کی تھی۔لیکن تبلیغی خدمت ان کی ایسی ہے جس کی مثال موجودہ جماعت میں نہیں ملتی۔انہیں تبلیغ کا جنون ہے۔ان کے ذریعہ ایسی ایسی جگہوں پر احمدیت پہنچی ہے کہ جہاں اور کوئی نہ پہنچا سکتا۔مجھے دو چار دن ہوئے ایک گریجوایٹ رجسٹرار کا ایک ایسے علاقہ سے خط آیا جس کا نام بھی میں نے کبھی نہ سنا تھا۔اس نے لکھا کہ میں سکندر آباد آیا تھا وہاں سیٹھ صاحب کے لڑکے یا کوئی رشتہ دار کسی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے جو میں نے سنیں۔بعد میں ان کو خط لکھا اور انہوں نے مجھے لڑ پچر بھیجا جسے پڑھ کر مجھ پر حق کھل گیا۔تو ایسے ایسے مقامات پر ان کے ذریعہ تبلیغ ہے کہ ہم جہاں نہ پہنچ سکتے تھے۔وہ تبلیغی لڑ پچر بہت پھیلاتے ہیں اور اس کام میں وہ اپنی مثال آپ ہی ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں تبلیغ کے میدان میں ایک بھی احمدی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔وہ جب احمدی ہونے کے قریب تھے تو مجھے ایک دوست نے دعا کیلئے لکھا۔اور میں نے رویاء دیکھا کہ ایک مکان ہے جس کے صحن میں ایک تخت ہے جس پر وہ شخص بیٹھا ہے جس کے لئے مجھے دعا کی تحریک کی گئی ہے، اس وقت تک میں نے ابھی سیٹھ صاحب کو نہ دیکھا تھا میں نے دیکھا کہ تجد کا وقت ہے آسمان میں چھلنی کی طرح سوراخ ہیں جن میں سے خدا کا نور چاروں طرف سے اس شخص پر گرتا ہے۔میں نے اس خواب کی اطلاع اسی وقت دے دی تھی۔اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے خاندان پر خاص فضل فرمائے اور ہمیشہ ان میں دین کی خدمت اور سلسلہ کی اشاعت کا جوش قائم رہے اور ان کے خاندان کے وہ افراد جو