خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 494

خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۴ء پندرہ روز کے بعد پھر تحریک بھیج دیں اور پھر بھی جواب نہ آئے تو خاموش ہو جائیں۔اس طرح بیرونی جماعتوں کے سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ وہ میرے خطبات جماعت کو سنادیں جو جمع ہوں انہیں یکجا اور جو جمع نہ ہوں ان کے گھروں پر جاکر لیکن کسی پر شمولیت کیلئے زور نہ ڈالیں اور جو عذر کرے اسے مجبور نہ کریں۔تیسری بات یہ مد نظر رکھی جائے کہ ہندوستان کے احمدیوں کا چندہ پندرہ جنوری ۱۹۳۵ء تک وصول ہو جائے۔جو ١٦ جنوری کو آئے یا جس کا ۱۵ جنوری سے پہلے پہلے وعدہ نہ کیا جاچکا ہو اسے منظور نہ کریں۔پہلے میں نے ایک ماہ کی مدت مقرر کی تھی مگر اب چونکہ لوگ اس مہینہ کی تنخواہیں لے کر خرچ کر چکے ہیں، اس لئے میں اس میعاد کو ۱۵ جنوری تک زیادہ کرتا ہوں۔جو رقم ۱۵ جنوری تک آجائے یا جس کا وعدہ اس تاریخ تک آجائے وہی لی جائے۔زمیندار دوست جو فصلوں پر چندہ دے سکتے ہیں یا ایسے دوست جو قسط وار روپیہ دینا چاہیں، وہ ۱۵ جنوری تک ادا کرنے سے مستثنیٰ ہوں گے۔مگر وعدے ان کی طرف سے بھی -۱۵ جنوری تک آجانے ضروری ہیں۔جو رقم یا وعدہ ۱۲ جنوری کو آئے اسے واپس کر دیا جائے۔ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کیلئے میعاد یکم اپریل تک ہے۔جن کی رقم یا وعدہ اس تاریخ تک آئے وہ لیا جائے ، اس کے بعد آنے والا نہیں۔اس صورت میں جو لوگ اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں، ان کیلئے ضروری ہے کہ اپنے وعدے اس تاریخ کے اندر اندر بھیج دیں۔رقم فروری مارچ اپریل میں آسکتی ہے۔یا جو دوست بڑی رقوم دس ہیں، تمھیں، چالیس کی ماہوار قسطوں میں ادا کرنا چاہیں یا اس سے زیادہ دینا چاہتے ہوں، انہیں سال کی بھی مدت دی جاسکتی ہے۔مگر ایسے لوگوں کے بھی وعدے عرصہ مقررہ کے اندر اندر آنے چاہئیں۔اس میعاد کے بعد صرف انہی لوگوں کی رقم یا وعدہ لیا جائے گا جو حلفیہ بیان دیں کہ انہیں وقت پر اطلاع نہیں مل سکی۔مثلاً جو ایسے نازک بیمار ہوں کہ جنہیں اطلاع نہ ہو سکے یا دور دراز ملکوں میں ہوں۔لیس کارکنوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جماعتوں پر ایسے وقت بھی آتے ہیں کہ وہ امتیاز کرنا چاہتا ہے۔اس کا منشاء یہی ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو ثواب سے محروم رکھا جائے۔پس جن کو خدا تعالی پیچھے رکھنا چاہتا ہے انہیں آگے کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں اور ہم کون ہیں جو اس کی راہ میں کھڑے ہوں۔ہمارے مد نظر روپیہ نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ خدا کے دین کی شان کس طرح ظاہر ہوتی ہے۔اللہ تعالٰی غیرت والا ہے۔وہ کسی کے