خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 42

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ موقع کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جب ہمارا بھائی مبارک احمد فوت ہوا تو اس کو دفن کرتے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا دیکھو کتنی خوشی کی بات ہے کتنا بڑا نشان پورا ہوا ہے۔ہمارے لئے مقدم اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔جب اس کی بات پوری ہو تو سب رنج اور دکھ بھول جاتا ہے۔اور یہ تو ہمارے ایمان کی علامت ہے کہ جب بھائی بھی مرے تو اس وقت بھی خدا کی بات کے پورے ہونے کی ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ہماری حالت تو وہی ہے جو کسی نے اس مصرعہ میں بیان کیا ہے کہ :- دیں جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تُو ہی تو ہے موت بحیات ہر چیز میں ہمیں خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہوتی نظر آتی ہیں۔غم اور خوشی ہر حالت میں ہمیں اللہ تعالی کے نشان نظر آتے ہیں اور دونوں حالتوں میں خدا کا چہرہ دکھائی دیتا ہے اس لئے شاعر کا یہ قول پوری طرح ہم پر صادق آتا ہے کہ جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے۔اس لحاظ سے اگر ہمارے اندر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے تو ہم معذور ہیں۔باقی ہمیں اپنے عمل سے ثابت کر دینا چاہیے کہ ہمیں ہمدردی سب سے زیادہ ہے۔میں نے چندہ کی اپیل کی ہے، اس پر جو لوگ بشاشت سے لبیک نہ کہہ سکیں وہ اپنے نفسوں پر بوجھ ڈال کر بھی چندہ مگر سلسلہ کے دوسرے کاموں کو نقصان پہنچائے بغیر۔یہ کوئی نیکی نہیں کہ ایک نیک کام چھوڑ کر دوسرا اختیار کر لیا جائے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی پاجامہ ایک لات پر پہن لے اور پھر توجہ دلائے جانے پر اُسے اُتار کر دوسری پر پہن لے۔پس مستقل چندہ کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر اور پہلی نیکیوں کو قائم رکھتے ہوئے اس طرف توجہ کی جائے۔میں نے جو مسئلہ بیان کیا ہے اگر یہ سمجھ میں آجائے تو بشاشت کے ساتھ اور اگر نہ آئے تو اپنے نفسوں پر بوجھ ڈال کر اس تحریک میں حصہ لیا جائے یہ قربانی کا موقع ہے۔اگر بشاشت ہو تو فبها وگرنہ عبودیت اور فرمانبرداری کے ماتحت اس میں حصہ لیا جائے اور جہاں تک ہو سکے مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کی جائے۔مونگھیر میں سوائے دو کے باقی سب احمدیوں کے مکان گر گئے ہیں ان کی مدد ضروری ہے تاکہ وہ ان کو مرمت کر سکیں اور باقی مستحقین کو بھی امداد دی جاسکے۔اگر جماعت توجہ کرے تو اس کی امداد سب سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دوسرے لوگ اگرچہ کروڑوں کی تعداد میں ہیں مگر ان کے صرف امراء ہی چندہ دیں گے لیکن جماعت اگر فرض شناسی سے کام لے تو چونکہ ہر ایک احمدی حصہ لے گا ہم مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَت حصہ گا،