خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 471

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ ہیں ہمارے پاس دل ہی تھا، وہ ہم نے پیش کر دیا اور خدا تعالی ضرور ان کے دل کی قدر کرے گا اور انہیں ایسا ہی اجر دے گا جیسا کام کرنے والوں کو دے گا۔رسول کریم ا ایک دفعہ ایک جنگ کیلئے جارہے تھے۔آپ نے صحابہ کو دیکھا کہ بہت سخت تکلیفیں اٹھا رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، جنگل کاٹ کاٹ کر رستہ بنا رہے ہیں اور اس سخت تشویش اور تکلیف کو دین کی خاطر برداشت کر کے فخر محسوس کر رہے ہیں کہ ہم کو دین کی بہت بڑی خدمت کی توفیق ملی رسول کریم ﷺ نے ان کی اس حالت کو محسوس کر کے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ لوگ ہیں جو تمہارے جیسا ثواب حاصل کر رہے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کس طرح ممکن ہے کہ قربانیاں تو ہم کریں، جانیں دینے کیلئے ہم نکلیں ، تکلیفیں ہم اٹھائیں، مصیبتیں ہم جھیلیں اور ثواب ان کو بھی ہمارے برابر ملے جو گھروں میں بیٹھے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں وہ اپانچ اور وہ لولے لنگڑے جن کے دل بریاں ہیں اور جو رورہے ہیں کہ ہمیں توفیق حاصل نہیں ورنہ ہم بھی اس جنگ میں شریک ہوتے کیا خدا تعالیٰ ان کو ثواب نہ دے گانے پس ایسے لوگ جو مجبور اور معذور ہیں۔خداتعالی کے سامنے نہ کہ اپنے جھوٹے نفس کے سامنے ان کے پاس سب سے کاری حربہ ہے وہ اسے چلا ئیں اس طرح وہ خود بھی ثواب کے مستحق ہوں گے اور جماعت بھی ترقی کرتی جائے گی۔یہ وہ 19 تجاویز ہیں جو میں نے جماعت کے سامنے پیش کی ہیں۔امید ہے کہ جلد سے جلد ان کو عمل میں لایا جائے گا اور وہ جو دین کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں آگے بڑھیں گے۔روپیہ کے متعلق جو تحریک کی گئی ہے اور جو ابھی قادیان میں لوگوں کو پہنچی ہے اس میں اس وقت تک ۶ سو روپیہ نقد اور ۸۰۷ سو کے وعدے ہو چکے ہیں اور مجھے جو خبریں ملی ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ اگر محلوں کی کمیٹیاں صحیح طور پر کوشش کریں تو قادیان سے ہی دو تین ہزار روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔باہر کی جماعتوں کے متعلق مہینہ ڈیڑھ مہینہ تک اندازہ لگایا جاسکے گا۔میں نے جو سکیم تجویز کی ہے اس کا فوراً پیش کرنے والا حصہ آج کے خطبہ سے مکمل ہوچکا ہے لیکن بعض زائد خیالات کا اظہار میں اگلے جمعہ کے خطبہ میں کروں گا۔جماعت کے لوگ ان مطالبات میں سے جس جس کو پورا کر سکتے ہیں، اس کیلئے اپنے آپ کو پیش کریں۔مگر یاد رکھیں یہ جو کچھ ہے پہلا قدم ہے۔جس طریق سے الہی سلسلے ترقی کرتے ہیں، اس کے مقابلہ میں یہ بالکل حقیر ہے۔جس طرح سپاہی کو مشق کرانے کیلئے اس کے کندھے پر بندوق رکھی جاتی ہے