خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 460

خطبات محمود ۲۶۰ سال ۱۹۳۴ء براہ راست ان کے اثر کے نیچے، خواہ ان کے خیالات سے گلی یا جزئی طور پر متان طور پر متاثر ہو کر۔ بالشو زم کی غرض مذہب کو باطل کرنا ہے۔ ان تحریکوں کا اثر بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ مذہب کے خلاف پڑتا ہے۔ بظاہر ان شاخوں میں کام کرنے والے بعض افراد مذہب کی تائید کرتے ہیں مگر حقیقت میں ان کی تحریکوں کا مذہب سے تعلق نہیں بلکہ مجموعی اثرات کے خلاف ہی پڑتا ہے۔ صوبہ سرحد کے سرخ پوشوں کو دیکھو کتنا اسلام کا دعوی کرتے ہیں لیکن جب موقع آیا تو کانگرس کے ساتھ مل گئے۔ پس ان لوگوں کا دعوٹی نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ جا کدھر رہے ہیں۔ یہ ہو ہی کسی طرح سکتا ہے کہ ایک اسلام کی خیر خواہ اور اسلام کی محافظ جماعت ہو اور آریہ عیسائی وغیرہ اس کی مدد کریں۔ یہی دیکھ لو یہاں کے آریوں نے احراریوں کو جلسہ کرنے کیلئے جگہ دی ہندو افسر احراریوں کی ہمارے خلاف مدد کرتے رہے۔ اگر ہم اسلام کو تباہ کرنے والے اور مسلمانوں کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے والے ہیں تو چاہیے تھا کہ غیر مسلم دوڑ کر ہمارے پاس آتے اور کہتے ہم تمہاری مدد کرنے کیلئے آئے ہیں مگر ہوتا کیا ہے یہ کہ ہماری بجائے احراریوں کی مدد کی جاتی ہے۔ پھر اس کی کیا وجہ تھی کہ بعض افسر تنخواہ تو گورنمنٹ سے پاتے تھے مگر مدد احراریوں کی کر رہے تھے۔ دراصل وہ حرام خوری کر رہے تھے کہ حکومت سے تنخواہیں لیکر حکومت ہی کی جڑیں کاٹ رہے تھے اور اس کے دشمنوں کی مدد کر رہے تھے۔ غرض اس قسم کی تحریکیں پیدا ہو رہی ہیں جو جلد سے جلد موجودہ نظام دنیا میں تغیر پیدا کر رہی ہیں ایسا تغیر جو اسلام کیلئے سخت مضر ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے آج سے دس سال قبل میں نے ریز روفنڈ قائم کرنے کیلئے کہا تھا تاکہ اس کی آمد سے ہم ہنگامی کام کر سکیں مگر افسوس جماعت نے اس کی اہمیت کو نہ سمجھا اور صرف ۲۰ ہزار کی رقم جمع کی۔ اس میں سے کچھ رقم صدر انجمن احمد یہ نے ایک جائداد کی خرید پر لگادی اور کچھ رقم کشمیر کے کاموں کیلئے قرض لے لی گئی اور بہت تھوڑی سی رقم باقی رہ گئی۔ یہ رقم اسقدر قلیل تھی کہ اس پر کسی ریز روفنڈ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ ہنگامی کاموں کیلئے تو بہت بڑی رقم ہونی چاہیئے جس کی معقول آمدنی ہو۔ پھر اس آمدنی میں سے ہنگامی اخراجات کرنے کے بعد جو کچھ بچے اس کو اسی فنڈ کی مضبوطی کیلئے لگا دیا جائے تاکہ جب ضرورت ہو اس سے کام لیا جاسکے۔ دوستوں نے اس کے متعلق بڑے بڑے وعدے کئے۔ ایک صاحب نے کہا میرے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع کرنا بھی مشکل نہیں مگر