خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 425

خطبات محمود ۴۲۵ سال ۱۹۳۴ء غرباء جو مطالبہ کر رہا ہوں وہ اسی اصل کے ماتحت ہے۔اسی طرح جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دین کے بارہ میں امراء کو سادگی کی تعلیم بھی نہ دی جائے وہ بھی غلطی پر ہیں۔بیشک روپیہ امراء کا اپنا لیکن اسلام کے امراء اور دوسرے امراء میں ضرور فرق چاہیے۔مثلاً اسلام کے امراء کو خرچ کرنا چاہیے اور اسلام کیلئے بھی۔پس اس جنگ میں میرے مخاطب آسودہ حال لوگ ہوں گے اور انہیں اپنے حق چھوڑنے پڑیں گے۔جنگ کی حالت میں خداتعالی بھی اپنے حق چھوڑ دیتا ہے۔جنگ کی حالت ہو تو حکم ہے کہ آدھے لوگ ایک رکعت نماز پڑھ لیں اور آدھے حفاظت کیلئے کھڑے رہیں۔ان کے بعد ان کی جگہ دوسرے آجائیں ہے۔گویا صرف ایک رکعت نماز کردی۔پھر بعض حالتوں میں قصر یعنی جلدی جلدی نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور خطرے کی حالت میں گھوڑے کی پیٹھ پر اشارے سے نماز پڑھ لینا جائز ہے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطرے کے حالات میں اللہ تعالیٰ بھی اپنا حق چھوڑ دیتا ہے۔پھر بندوں کو کیا حق حاصل ہے کہ خطرہ کی حالت میں اپنا حق چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوں۔پس اصول یہ ہیں کہ (1) ہر حالت میں غریب اور امیر کو ایک سطح پر لانے کی کوشش نہ کہ اپنے کرو۔اس سے نظام انسانیت بدل جاتا ہے۔(۲) آسودہ حال لوگوں کیلئے ضروری ہے اموال کا ایک حصہ غرباء کیلئے اور ایک حصہ دین کیلئے وقف کریں۔گو ہماری جماعت میں لکھ پتی اور کروڑپتی لوگ نہیں مگر جو لوگ کھاتے پیتے ہیں وہ ہمارے معیار زندگی کے مطابق آسودہ حال ہیں۔چونکہ اس وقت ہمارا سلسلہ خاص حالات میں سے گزر رہا ہے اس لئے جو لوگ عام حالات میں آسودگی سے رہتے ہیں وہ اس امر کا ثبوت دیں کہ پہلے وہ اگر کھاتے پیتے تھے تو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جب قربانی کیلئے انہیں بلایا گیا تو ؟ انہوں نے سب کچھ چھوڑ دیا۔اگر وہ ایسا کر دیں گے تو ثابت ہو جائے گا کہ غرباء کا ان پر جو یہ اعتراض تھا کہ وہ عیاشی کے ماتحت کھاتے پیتے اور پہنتے تھے، وہ غلط تھا۔وہ خدا تعالیٰ کے کے ماتحت کھاتے پیتے تھے جب اس کا حکم اس کے خلیفہ کے ذریعہ سے اپنی حالت بدلنے کے متعلق ملا تو انہوں نے اپنی حالت کو بدل دیا۔اس اصل کے بیان کرنے کے بعد اب میں پہلا مطالبہ کرتا ہوں اور تین سال کیلئے جماعت کے مخلصوں کو بلاتا ہوں کہ جو ان شرائط پر عمل کر سکتے ہوں اور جو سمجھتے ہوں کہ و ان شرائط کے ماتحت آسکتے ہیں وہ کھانے پینے ، پہننے ، رہائش اور زیبائش میں ایسا تغیر کریں کہ وہ