خطبات محمود (جلد 15) — Page 424
خطبات محمود رض ۴۲۴ سال ۱۹۳۴ء خیال سے اپنا آدھا مال لے کر گئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے قبل حضرت ابوبکر نے آدھا مال بھی کبھی نہیں دیا تھا وگرنہ حضرت عمر " کو یہ خیال کس طرح ہو سکتا تھا کہ اپنا آدھا مال دے کر حضرت ابوبکر سے بڑھ جاؤں گا لیکن حضرت ابو بکر اس موقع کی نزاکت کو دیکھ کر اپنا سارا مال دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔چنانچہ جب وہ اپنا سارا مال لے کر گئے تو رسول کریم ﷺ جو آپ کے داماد تھے اور ان کے گھر کی حالت سے واقف تھے اسے دیکھتے ہی فرمانے لگے کہ آپ نے اپنے گھر میں کیا چھوڑا۔حضرت ابوبکر نے کہا کہ خدا اور اس کے رسول کا نام ہے - اسی وقت حضرت عمر بڑے فخر سے آدھا مال لے کر آرہے تھے مگر جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے حضرت ابوبکر" کا یہ جواب سنا اور سمجھ لیا کہ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ارم پس ہر زمانہ کیلئے قربانی الگ الگ ہوتی ہے۔بعض لوگ نادانی سے یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ جماعت میں امراء اچھا کھانا کھاتے اور اچھا لباس پہنتے ہیں مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ اسلام کی یہ تعلیم نہیں کہ ہمیشہ ہی اچھا کھانا نہ کھایا جائے یا اچھے کپڑے نہ پہنے جائیں بلکہ اصول یہ ہے کہ جب امام آواز دے اس وقت اس کی آواز کے مطابق قربانی کی جائے۔اس وقت جو شخص اس قربانی کیلئے ماحول پیدا نہیں کرتا وہ اسراف کرتا ہے اور قابل مواخذہ ہے۔پس ایک اسراف عام حالات کے ماتحت ہے اور ایک خاص حالات کے ماتحت۔جو لوگ چاہتے ہیں کہ امیر اور غریب ہمیشہ ایک ہی سطح پر رہیں۔وہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ کے خلاف عمل کرتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں سب ایک سطح پر نہیں تھے۔جنگ تبوک کے موقع پر ابو موسیٰ اشعری رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسُول اللہ ! ہمارے لئے سواری کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا میرے پاس سواری نہیں ہے۔انہوں نے پھر کہا مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ میرے پاس نہیں ہے ہے۔حالانکہ آپ کے پاس اپنے لئے سواری تھی۔اور آپ تبوک کی طرف سواری پر ہی گئے تھی اسی طرح بعض صحابہ اچھے کھانے کھاتے تھے اور بعض کو کئی کئی فاقے ہوتے تھے تو سب کو ہمیشہ برابر نہیں کیا جاسکتا۔قربانی کے اوقات میں امام جو ہدایت کرے اس کے مطابق عمل کرنا ہر ایک کا فرض ہوتا ہے۔جیسے اب ہم کہتے ہیں کہ غرباء یہ قربانی نہیں کر سکتے آسودہ حال لوگ کریں تو ان پر اس کی تعمیل فرض اب جو یہ قربانی نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مستوجب سزا ہے اور اس وقت میں ہو