خطبات محمود (جلد 15) — Page 423
خطبات محمود ۳۲۳ سال ۱۹۳۴ تو داخل کر دیا جائے۔بعض صوفیاء نے خاص حالات کے ماتحت بعض شرطیں لگادیں مثلاً یہ کہ کفنی پہن لو اور زیبائش کو ترک کردو۔مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں فتوحات بھی ہوئیں بادشاہتیں بھی مل گئیں مگر وہ کفنی نہ گئی۔اسی طرح بعض نے خاص حالات کے ماتحت اچھے کھانے کھانے کی ممانعت کی مگر زمانے بدل گئے حالات میں تبدیلیاں ہو گئیں لیکن اس میں تبدیلی نہ ہوئی اور اب تک ایسے لوگ ہیں کہ پلاؤ کھانے لگیں تو اس میں مٹی ڈال لیں گے۔تو ایک طرف مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کوئی بدعت نہ پیدا ہو جائے اور دوسری طرف صراحتاً نظر آتا ہے کہ اس کے بغیر ہم ایسی قربانیاں نہیں کر سکتے جو سلسلہ کی ترقی کیلئے ضروری ہیں۔کھانے پینے اور رہائش کیلئے اسلام نے تین اصول مقرر کئے ہیں۔پہلا یہ ہے کہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ نے یعنی جوں جوں اللہ تعالیٰ کی نعمت ملے اسے ظاہر کیا جائے۔خدا تعالیٰ اگر مال دیتا ہے تو جسم کے لباس سے اسے ظاہر کرے اور تحدیث نعمت کرے اس کے استعمال سے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرے۔دوسری تیسری ہدایت یہ دی که كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا س یعنی کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو۔یعنی جب معلوم ہو کہ کھانا پینا حد سے آگے بڑھ گیا ہے تو چھوڑ دو۔یا یہ کہ جب زمانہ زیادہ قربانی کا مطالبہ کرے تو اس وقت فوراً اپنے خرچ میں کردو۔اسراف بھی دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک شخص کی آمد ایک ہزار یا دو تین ہزار روپے ماہوار ہے اس کے گھر میں اگر چار پانچ کھانے پکتے ہوں یا پندرہ میں روپے گز کا کپڑا وہ پہنتا ہے یا آٹھ دس سوٹ تیار کرا لیتا ہے تو اس کے مالی حالات کے مطابق اسے ہم اسراف نہیں کہہ سکتے لیکن اگر اس کے بیوی بچے بیمار ہو جائیں اور وہ ایسے ڈاکٹروں سے علاج کرائے جو قیمتی ادویات استعمال کرائیں اور اس طرح ہزار میں سے نو سو روپیہ اس کا دوائیوں پر خرچ ہو جائے لیکن کھانے اور پہننے میں پھر بھی وہ کوئی تبدیلی نہ کرے تو یہ اسراف ہوگا۔پس اصل یہ ہے کہ جب کوئی زمانہ ایسا آئے کہ مقابل پر دوسری ضروریات بڑھ جائیں تو اس وقت پہلی جائز چیزیں بھی اسراف میں داخل ہو جائیں گی۔اسلام ہر وقت ایک قسم کی قربانی کا مطالبہ نہیں کرتا۔اگر ایسا ہوتا تو حضرت ابو بکر ایک خاص جنگ کے وقت اپنا سارا اور حضرت عمر اپنا آدھا مال نہ پیش کرتے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بیسیوں جنگیں ہوئیں مگر حضرت ابوبکر نے اپنا سارا اور حضرت عمر نے آدھا مال نہیں دیا۔ایک جنگ کے موقع پر حضرت عمر " کو یہ خیال آیا کہ آج زیادہ قربانی کا موقع ہے میں حضرت ابوبکر سے بڑھ جاؤں گا اور اس