خطبات محمود (جلد 15) — Page 406
خطبات محمود ۴۰۶ سال ۱۹۳۴ء ا جرأت کوئی نہیں کرے گا اور سوائے کسی بیوقوف کے کوئی اس کی تفاصیل کو ظاہر کرنے کیلئے تیار نہ ہوگا۔اس طرح اگر ہم تبلیغ کیلئے کوئی جگہ مچن لیں یا کوئی طریق تبلیغ تجویز کریں اور اس کا اعلان بھی کر دیں۔تو اس کا لازمی یہ نتیجہ ہو گا کہ مخالف بھی اپنا سارا زور اس تجویز کو ناکام بنانے میں صرف کردے گا اور اس طرح بالکل ممکن ہے کہ ہماری تجویز بہت حد تک نامکمل رہے۔پس جس طرح ایک ہوشیار جرنیل کا کام ہے کہ دشمن کی طاقتوں کو خاص طرف لگائے رکھے اور اپنی طاقتوں کو دوسری طرف خرچ کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرسکے۔اسی طرح تبلیغی منتظم کا فرض ہے کہ مخالف پروپیگنڈا کو ایسی جہت پر لگائے رکھے کہ تبلیغ کے کام کو نقصان نہ پہنچے اور مخالف فریق کو اصل کام کی حقیقت کا علم نہ ہو اور اس طرح دشمن کو اس سے غافل رکھ کر کامیابی حاصل کرے۔پس ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میری کے بعض حصے ایسے ہیں کہ میں انہیں تفصیلاً بیان نہیں کروں گا کیونکہ اگر انہیں بیان کردوں تو نتیجہ اتنا اہم اور شاندار نہیں نکل سکتا جتنا بعض تفاصیل کو نظرانداز کرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔مجھے یہ بات اس لئے وضاحت سے بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ قرآن کریم میں خفیہ انجمنیں بنانے اور پوشیدہ کارروائیاں کرنے کی ممانعت ہے اور میں نے اس لئے یہ بات کھول کر بیان کی ہے کہ دونوں میں فرق معلوم ہو سکے۔اگر کوئی خفیہ انجمن کسی کو مارنے یا قتل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ایسا فعل نہیں کہ کسی وقت بھی اگر اس کو ظاہر کیا جائے تو لوگ کہیں کہ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔کوئی ایسی خفیہ کارروائی جو کسی کو قتل کرنے یا اس کے گھر کو یا کھلیان کو آگ لگانے کے متعلق ہو جب بھی ظاہر ہوگی ہر شخص یہی کہے گا کہ یہ بہت بُرا فعل ہے لیکن میں جو بات کہتا ہوں وہ ایسی نہیں۔میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ ہم تبلیغی کام کریں گے ہاں اس میں ایک حد تک اخفاء ہوگا۔یعنی محاذ جنگ کی یا ذرائع تبلیغ کی خبر دشمن کو نہیں دیں گے۔وہ تبلیغ ہوگی جو جائز فعل ہے۔فرق صرف یہ ہوگا کہ ذرائع تبلیغ اور مقام کو پوشیدہ رکھیں گے اور اس طرح تبلیغ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں گے لیکن اس ساری سکیم میں کوئی دھوکے کا عصر موجود نہ ہوگا۔پس ایسی تحریکات میں جو میں کروں گا مؤمنین کو ایک حد تک ایمان بالغیب لانا پڑے گا اور یہ بھی ان کے ایمان کی ایک آزمائش ہوگی۔قرآن کریم کی پہلی سورۃ میں ہی جو مقدمہ یا دیباچہ کے بعد ہے یعنی سورۃ بقرہ اس کی