خطبات محمود (جلد 15) — Page 400
خطبات محمود ۴۰۰ سال ۱۹۳۴ء ہیں کہ ہم گھاٹے میں رہے۔آریہ بھلا اس بات کو کب تسلیم کرسکتے تھے کہ ہم میں ہزار لوگوں کو کلمہ پڑھا کر اسلام میں واپس کر لیں۔وہ نہایت مایوس ہوئے اور سوامی شرد ہانند جی نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ گاندھی جی ناراض ہوں اور تکلیف اٹھائیں۔ہمارے نمائندوں نے کہا بات بالکل صاف ہے اگر اس پر بھی کوئی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔عجیب بات یہ ہوئی کہ ہماری یہ بات بعض مسلمان سیاسی نمائندوں کی سمجھ میں آگئی اور وہ بھی کہنے لگے برابری تو سبھی ہوتی ہے جب میں ہزار لوگ اسلام میں واپس ہوں۔جمعیۃ العلماء" کا نمائندہ بھی وہاں موجود تھا اس نے بڑے جوش سے سوامی شرد ہانند جی کو کہا کہ ان احمدیوں کی ہستی ہی کیا ہے انہیں چھوڑئیے اور ہم سے معاہدہ کیجئے میں سات کروڑ مسلمانوں کی طرف سے آپ سے معاہدہ کروں گا کہ وہاں کوئی مسلمان تبلیغ نہیں کرے گا۔سوامی جی حقیقت سے خوب واقف تھے وہ کہنے لگے مولانا آپ کے وہاں پچاس مبلغ ہوں تو حرج نہیں لیکن اگر ایک احمدی مبلغ بھی وہاں موجود ہو تو اس کا رہنا خطرناک ہے۔یہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے آریہ غصے سے بھرے ہوئے ہیں۔ادھر عیسائی الگ مخالف ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مشنوں کو جس قدر نقصان پہنچ رہا ہے سب احمدیوں کی وجہ سے ہی ہے۔اچھوتوں میں ہم جو تبلیغ کرتے ہیں اس کی وجہ سے بھی انہیں دشمنی ہے۔چنانچہ اس وقت تک سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اچھوت ہماری جماعت میں شامل ہو چکے ہیں اس کا بھی انہیں غصہ ہے۔پھر یہ کوششیں نہ صرف اندرون ہند بلکہ بیرون ہند میں بھی ہماری طرف سے جاری ہیں۔گذشتہ دنوں چرچ آف انگلینڈ کی طرف سے ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی اس میں سات مختلف مقامات پر افریقہ کے ذکر میں بیان کیا گیا کہ احمدیوں نے عیسائیت کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔غرض ان حالات کی وجہ سے مسلمان، عیسائی اور آریہ تینوں قومیں متحد ہو کر ہمیں مٹانا چاہتی ہیں۔پھر ہماری جماعت کی موجودہ مخالفت میں اقتصادی تغیرات کا بھی دخل ہے کیونکہ مالدار طبقہ ہمیشہ غرباء کو لوٹتا رہتا ہے اور ہماری جماعت اس تحریک کے مخالف ہے اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ امراء ہماری جماعت کی مخالفت کرتے ہیں۔دو تین مہینے ہوئے کہ ایک انگریز پولیٹیکل ایجنٹ نے ہماری جماعت کے ایک افسر کو کہا کہ فلاں ریاست میں آپ لوگوں کی نکلتا