خطبات محمود (جلد 15) — Page 386
خطبات محمود ۳۸۶ سال ۱۹۳۴ء گا۔اس میں شبہ نہیں کہ انگریزوں میں اکھڑ ظالم اور خود پسند ہر قسم کے لوگ ہیں مگر ان میں اچھے سے اچھے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔بلکہ اب بھی کثرت ایسے انگریزوں کی ہے جو کوشش کرتے ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہو اور اکثریت ایسے انگریزوں کی ہے جو دوسری حکومتوں کے ارکان کے مقابلہ میں بہت زیادہ اچھے ہیں۔میں نے فرانسیسی اور روسی حکومت کی رعایا کو دیکھا ہے۔ان دونوں حکومتوں کے ماتحت لوگوں نے میرے سامنے جو تکالیف بیان کیں، وہ ان تکالیف سے بہت زیادہ ہیں جو انگریزوں کے متعلق بیان کی جاتی ہیں۔شام میں جب میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگ فرانسیسی حکومت سے جس کے وہ ماتحت رہتے ہیں اتنے شاکی تھے کہ کر حیرت ہوتی تھی۔پھر ان کی باتیں ایسی تھیں جو دل پر نہایت گہرا اثر ڈالتیں۔انگریزوں کے متعلق جو باتیں بیان کی جاتی ہیں وہ استدلالی رنگ میں بیان کی جاتی ہیں۔مگر ان کی باتیں واقعات کے پیرایہ میں تھیں۔خود مجھے ایک عجیب تجربہ ہوا جب میں انگلستان جاتے ہوئے شام گیا تو وہاں میں نے ایک تبلیغی رسالہ چھپوایا۔مسلمانوں نے اس پر شور مچایا کہ اسے ضبط کرلینا چاہیے۔اتفاقاً میں اسی دن فرانسیسی گورنر سے ملنے گیا تھا جب میں وہاں پہنچا تو وہ نہایت ہی میٹھی زبان میں مجھ سے ہمکلام ہوا اور کہنے لگا آپ کیا پئیں گے شربت پئیں گے؟ کافی پئیں گے؟ طبیعت کیسی ہے، آپ کی کیا تواضع کروں، بالکل وہی طریق تھا جو ہمارے ہاں مروج ہے۔دورانِ گفتگو میں اس ٹریکٹ کا ذکر بھی آگیا کہ لوگ اس کے خلاف بلاوجہ شور کر رہے ہیں اور میں نے سنا ہے کہ حکومت اسے ضبط کرنا چاہتی ہے تو وہ کہنے لگا یہ بالکل غلط بات ہے ہمیں مذہبی معاملات میں دخل دینے کا کیا حق ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ حکومت نے واقعہ میں اسے ضبط کرلیا تھا۔جب بعض افسران کے پاس شکایت کی گئی کہ گورنر تو اس فعل کو ناجائز قرار دیتا ہے پھر یہ کس طرح ضبط ہوا تو انہوں نے بتایا کہ خود گورنر کے حکم سے ایسا ہوا ہے اور ہمارے آدمیوں کو بتایا گیا کہ جب وہ آپ کو شربت پلا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم مذہبی معاملات میں دخل نہیں دیا کرتے تو اس سے پہلے وہ اس نوٹس پر دستخط کر چکا تھا۔اس ایک مثال سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ سارے فرانسیسی افسر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ان میں نیک اور فرض شناس افسر بھی ہیں لیکن گو وہ زبان کے بہت میٹھے ہوتے ہیں، تعلقات میں ایسی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو تشدد اور سختی کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اسی لئے مراکو وغیرہ میں ان کے خلاف سخت جذبہ منافرت پھیلا ہوا ہے۔روسی حکومت کے حالات تو سب پر ظاہر ہیں وہ مذہب