خطبات محمود (جلد 15) — Page 385
خطبات محمود ۳۸۵ سال ۶۱۹۳۴ طریق عمل ہے ورنہ اگر عہدوں کا منا لیاقت پر موقوف رکھا جائے تو ہم کبھی کسی کی سفارش نہ کریں۔ پس میرے نزدیک اس دوست کا فعل ایک غلطی ہے۔ ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم حکومت کی خدمات اپنے عقائد کی بناء پر کرتے ہیں، اسی طرح ملک اور سیاست کے فائدہ کیلئے کرتے ہیں نہ کہ انگریزوں پر احسان کرنے کیلئے۔ پس یہ جائز نہیں کہ جماعتی خدمات کو شخصی مفاد کیلئے پیش کیا جائے۔ برطانوی حکومت سے تعاون کی وجہ حقیقت میں یہ ہے کہ برطانوی ایمپائر (EMPIRE) کے متعلق مجھے یقین کامل ہے کہ دنیا کے آئندہ امن کیلئے یہ بطور بیج ہے۔ آج جس قدر دنیا میں فساد نظر آتا ہے ایک قوم دوسری قوم پر اور ایک حکومت دوسری حکومت پر چڑھتی نظر آتی ہے اس کشمکش کو دور کرنے کیلئے برطانوی ایمپائر بہترین نمونہ ہے۔ اس کے ماتحت بعض آزاد ملک ہیں جو اپنی اقتصادیات، افواج اور بری اور بحری جنگوں کے خود مختار ہیں مگر اس کے باوجود اخلاقی رنگ میں ان کا انگلستان سے بھی تعلق ہے۔ وہ انگلستان کیلئے قربانی کرنے پر تیار رہتے ہیں اور انگلستان ان کیلئے قربانی کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ یہ حکومت کا ایک ایسا خوبصورت نمونہ نہ ہے جسے توڑنا دنیا پر ظلم کرنا ۔ ظلم کرنا ہے۔ ہم اگر اس نمونہ کی طرف دنیا کو لانے کی کوشش کریں تو کل کو وہ مشن بھی کامیاب ہو کر رہے گا جو خدا تعالیٰ نے سپرد کیا ہے اور جس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا سے فساد دور کیا جائے اور عالمگیر طور پر امن قائم کیا جائے۔ مجھے اپنے اس عقیدہ پر اس قدر یقین ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ جب میں اس کے متعلق انگریزوں سے گفتگو کرتا ہوں تو ان میں سے کئی اپنے دل میں ہنستے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ ہم نے آج ایک پاگل دیکھا ہے۔ مگر میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو خود انگریزوں کو بھی نظر نہیں آتا کیونکہ میری آنکھوں کو غیب بینی کی قوت دی گئی ہے اور وہ اس محروم ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا آئندہ انہی کے ساتھ وابستہ ہوگا ہو کر ترقی کرے گی مگر میں یہ جانتا ہوں اور ایک اور ایک دو کی طرح مجھے یہ یقین ہے کہ اگر دنیا پر امن تعاون کی ہمارے سپرد راہ پر ترقی کرنا چاہتی ہے تو اسے برطانوی حکومت کے نمونہ پر ایک ڈھانچہ تیار کرنا ہو گا۔ دنیا بهر حال برٹش ایمپائر (BRITISH EMPIRE) اپنے نمونہ اور اپنی ذات کی وجہ سے میں امن قائم کرنے میں ممد ہے اور خواہ انگریز ہمارے دشمن ہو جائیں، تب بھی میں اس بارے میں اختلاف نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ان کا ذاتی فعل ہو گا اور یہ اصول کا سوال ہے۔ یوں بھی اگر انگریزی حکومت کا دوسری حکومتوں سے مقابلہ کرکے دیکھو تو بہت بڑا فرق نظر آئے