خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 384

خطبات محمود صدمه ۳۸ سال ۱۹۳۴ء پہنچتا ہے۔ہمارا ہی ایک عزیز تھا، گو اس سے جدی رشتہ تو نہیں مگر بعض اور رشتوں کے لحاظ سے اس سے ہمارا تعلق ہے، ایک دفعہ تحصیلداری کیلئے اس نے نام پیش کیا اور سلسلہ کے کارکنوں نے اس کی سفارش کی کہ اس خاندان سے حکومت کے پرانے تعلقات ہیں اس نوجوان کا اگر خیال رکھا جائے تو اچھا ہو گا خصوصاً جبکہ وہ ذاتی طور پر بھی قابل ہے مگر انگریز کمشنر نے اتنی تکلیف بھی گوارا نہ کی کہ اس کا نام بھیجوا دیتا اور دوسرے ایسے امیدواروں کے نام بھجوادیے جو صرف حاشیہ نشینی کا امتیاز رکھتے تھے۔اس کے بعد کمشنر سے کہا گیا کہ اب آپ کو اختیار ہے آپ چاہیں تو بلا سکتے ہیں چنانچہ اس نے ہمارے عزیز کو بلالیا۔غرض بعض انگریز یقیناً ایسے ہیں جو اس قسم کی غلطی کرتے ہیں۔مگر در حقیقت انہیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ملک کی بہتری اسی میں ہے کہ جو لوگ حکومت سے تعاون کرنے والے ہوں ان کا زیادہ خیال رکھا جائے اور ان کی اقتصادی حالت درست کی جائے۔اس لحاظ سے خواہ ہم خود نہ مانگیں گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ ہمارا لحاظ رکھے لیکن یہاں چونکہ ہماری جماعت کے ایک آدمی نے اعتراض کیا ہے، اس لئے میں کہتا ہوں کہ اس نے غلطی کی کیونکہ جماعت کی خدمات سے خود فائدہ اٹھانے کی سعی کرنا بہت معیوب بات ہے۔اسی قسم کی غلطی جماعت کے ایک اور دوست نے بھی کی تھی۔وہ لائل پور کے رہنے والے ہیں انہوں نے کسی ذاتی مفاد کیلئے ڈپٹی کمشنر کے سامنے جماعت کی وفادارانہ خدمات پیش کیں اور چونکہ آدمی مخلص تھے اس لئے انہوں نے مجھے بھی لکھ دیا کہ میں نے ڈپٹی کمشنر کو یہ کہا ہے۔میں نے انہیں فوراً لکھا کہ یہ آپ نے سخت غلطی کی آپ ڈپٹی کمشنر کے پاس جائیں اور اس سے کہیں کہ میں نے جو کچھ کہا وہ غلطی سے کہا اور یہ کہ میرے لئے ایسا کہنا جائز نہ تھا۔پس قومی خدمات سے کسی فرد کو فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ہاں یہ مرکزی افسروں کا کام ہے کہ وہ حکام کے کانوں میں یہ بات ڈالتے رہیں کہ حکومت سے تعاون اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے والوں سے نمایاں سلوک ہونا چاہیے تاکہ یہ سلوک ان کے جذبات اطاعت کو بیدار کرنے میں محمد ہو۔ورنہ ہمارا اصل یہ ہے کہ ہم نہ ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں نہ جائز بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ اپنی قابلیت سے فائدہ اٹھایا جائے۔اگر ہم کبھی سفارش سے کام کراتے ہیں تو اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں جب زید نے سفارش سے فلاں عہدہ حاصل کرنا ہے تو ہم کیوں نہ بکر کی سفارش کر دیں۔پس یہ ایک عام رو کے ماتحت ہمارا