خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 368

خطبات محمود ا ۳۶۸ سال ۱۹۳۴ء مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا اور اگر مذہب اجازت بھی دیتا ہو تو چونکہ ہمارے اندر طاقت نہیں اس لئے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔پس نہ ہم جھوٹ بولتے ہیں اور نہ ہی قانون شکنی کرتے ہیں۔ہاں بارہ مہینے بے کار بیٹھے رہنے کے بھی ہم عادی نہیں۔ہم تو گورنمنٹ کے اس معاملہ میں کسی خاص میعاد کا تعین نہیں کرتے اور نہ ہی احراریوں سے مقابلہ کی کوئی میعاد مقرر کر سکتے ہیں۔اگر ایک سال نہیں، دو سال نہیں، دس سال نہیں، سو سال نہیں، ہزار سال بھی ہمارا اس مقابلہ میں لگ جائے تو ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔اگر فرض کرو ہم اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو ہماری آئندہ نسل کا فرض ہے کہ وہ اس سوال کو اٹھائے اور اگر وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکتی تو اس سے آئندہ آنے والی نسل کا فرض ہے کہ اس سبق کو بھولے نہیں بلکہ یاد رکھے اور اگر کوئی نسل اس عہد کو فراموش کرتی ہے تو وہ ہماری نسل نہیں کہلا سکتی۔ہم کسی خاص وقت کے قائل نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ جب خدا تعالی کا منشاء ہو گا وہ اس کام کو پورا کرے گا اور اگر ہمارے سو سال بھی اس کام میں لگ جاتے ہیں تو ہمارا اس میں کیا حرج ہے۔ہم نے سلسلہ کی خدمت کرنی ہے اور خادم کو اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ اس کے کام کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔وہ خدمت کرتا ہے اور کبھی خدمت کرنے سے گھبراتا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بچپن کا واقعہ ہے۔ایک غیر احمدی جو اب فوت ہو چکا ہے اس نے بنایا کہ حضرت صاحب جب بچہ تھے گاؤں سے باہر شکار کے لئے گئے اور شکار کے لئے پھندا تیار کرنے لگے، پھر اس خیال سے کہ کھانا کھانے کے لئے گھر نہیں جاسکیں گے ایک دھیلہ ایک بکری چرانے والے کو دیا کہ جاکر چنے بھنوا لاؤ اس زمانہ میں روپیہ کی بہت قیمت تھی اور کوڑیوں سے بھی خرید و فروخت ہوا کرتی تھی) اور اس سے وعدہ کیا کہ میں اتنی دیر تمہاری بکریوں کا خیال رکھوں گا۔وہ شخص جا کر کسی کام میں لگ گیا اور وہ واپس نہ آیا۔ایک دوسرے شخص نے دیکھ کر کہا کہ آپ اس قدر دیر سے انتظار کر رہے ہیں۔میں جاکر اسے بھیجوں اور یہ شخص جاکر اس لڑکے کو تلاش کرتا رہا اور کہیں شام کے قریب اسے جا ڈھونڈا اور آپ شام تک بکریاں چرایا کئے اور اپنے وعدہ پر قائم رہے۔نب وہ آیا تو آپ اس پر ناراض بھی نہ ہوئے۔یہ اخلاق ہیں جو جیتنے والوں میں ہوتے ہیں نہ یہ کہ عمر آخر ہونے کو آئی ہے اور ہر کام میں ستی، ہر کام میں غفلت کوئی ہوشیار کرے تو ہوشیار ہوں ورنہ پھر غفلت کی حالت میں چلے جائیں۔مومن جب ایک کام کو ہاتھ میں لیتا ہے