خطبات محمود (جلد 15) — Page 357
خطبات محمود ۳۵۰ سال ۱۹۳۳ء مذہب کی خوبیاں بیان کرنی چاہئیں اور حکومت کو بھی اس قسم کا قانون بنانے کی تحریک کی لیکن بار بار توجہ دلانے کے باوجود نہ پبلک نے اس تحریک کو قبول کیا اور نہ حکومت نے۔آج ان علماء اور ان کی تائید میں حکومت کو یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گالیاں دی ہیں، بار بار توجہ دلانے پر پہلے کیوں ہوش نہ آیا تھا۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گالیاں نہیں دیں، انہی کے بھیجے ہوئے بعض تحفے واپس کئے ہیں۔باقی تحفوں کا ڈھیر ہمارے پاس پڑا ہے۔اگر ضرورت ہوئی تو ان کی بھی نمائش کر دی جائے گی اور اس وقت حکومت کو بھی اور ”زمیندار“ وغیرہ کی قسم کے لوگوں کو بھی علم ہو گا کہ ظلم کس نے کیا ہے۔اور یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گالیاں نہیں دیں بلکہ مولویوں اور پادریوں کی گالیوں کا ایک نہایت حقیر حصہ واپس کیا ہے ورنہ جو گالیاں پادریوں اور ان کے ہم نوا مولویوں نے دی تھیں، ان میں سے بعض تو شریف آدمی دُہرا بھی نہیں سکتا۔اب اگر گورنمنٹ یہ کھیل دیکھنا چاہتی ہے تو بخوشی دیکھ لئے، اس میں بھی ہمارا نقصان نہیں مگر گورنمنٹ کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے دلوں میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ہے وہ ہرگز اس سے کم نہیں جو عیسائیوں کے دلوں میں حضرت مسیح ناصری کی ہے اور وہ قربانیاں جو مسیح ناصری کیلئے عیسائی کر سکتے ہیں، ویسی ہی قربانیاں بلکہ اس سے بڑھ کر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیلئے کرنے کو تیار ہیں۔ہمارے آدمیوں نے کابل میں اس کا نمونہ دکھا دیا اور ہم میں سے جو شخص ذرہ بھر بھی ایمان اپنے اندر رکھتا ہو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیلئے اپنی جان قربان کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔گورنمنٹ کو کیا معلوم کہ ہماری محبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ گو آپ کو فوت ہوئے پچتیں سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن آج بھی ہمارے دل اس واقعہ کی یاد میں خون کے آنسو بہا رہے ہیں اور ہم آج تک اپنے آپ کو یتیم محسوس کرتے ہیں۔میں بیشک ان کا لڑکا ہوں مگر میں اکیلا اپنے باپ کا لڑکا نہیں، ہر بچہ ماں باپ رکھتا ہے مگر خدا شاہد ہے کہ گو اب میری عمر پینتالیس سال سے تجاوز کر چکی ہے اور میرے بچے پچیس پچیس سال کے ہو چکے ہیں لیکن اب تک وقتاً فوقتاً ایسی حالت ہوتی رہتی ہے کہ دل اس جدائی کو یاد کرکے بے تاب ہو جاتا ہے۔یہ دنیا ہمیں گھر معلوم نہیں ہوتی بلکہ گھر وہی معلوم ہوتا ہے جس میں ہمارا وہ پیارا رہتا ہے۔اگر اس ذمہ داری کا احساس جو مجھ پر ڈالی گئی ہے نہ ہو تو یہ غم مجھے بالکل کچل دے مگر یہ خیال