خطبات محمود (جلد 15) — Page 349
خطبات محمود ۳۹ سال ۱۹۳۴ء سازشیں ہو رہی ہیں اور متوازی حکومتیں قائم ہو رہی ہیں۔ مگر کیا یہ درست ہو گا پھر باامن شہریوں پر ایسے الزام لگانے سے یقینا حکومت مضبوط نہیں ہو سکتی بلکہ کمزور ہوتی ہے اور لوگوں کا حکومت پر سے اعتبار اٹھتا ہے۔ ہی سے لفظ اس دوسرا ثبوت ان صاحب نے ہماری متوازی حکومت کا یہ دیا کہ تم مقدمات کے تصفیہ کیلئے لوگوں کو بلاتے وقت سمن جاری کرتے ہو اور مدعی اور مدعاعلیہ کے الفاظ لکھتے ہو حالانکہ سمن کے معنی بلانے کے ہیں اور مدعی اور مدعاعلیہ ہماری عربی زبان کے الفاظ ہیں جو مسلمانوں لئے گئے ہیں ہماری شریعت میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پھر کیا اب ہماری اپنی شریعت کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی ہمیں روکا جائے گا۔ کوئی غور کر کے بتائے کہ مدعی اور مدعاعلیہ کے الفاظ لکھنے سے ہم متوازی حکومت قائم کرنے والے کس طرح بن گئے؟ جو سمن جاری کرنے کا الزام ہم پر لگایا گیا ہے۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اول تو یہ لفظ ہی ہمارے ہاں استعمال نہیں ہوتا۔ صرف غلطی سے چند کاغذات میں یہ استعمال ہوا ہے ورنہ ہماری قضاء کے محکمہ میں ہرگز یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں طریق یہ ہے کہ سادہ چٹھی لکھی جاتی ہے اور جسے بلانا ہو اسے بلا لیا جاتا ہے۔ خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب انگریزی نوکری کرتے ہوئے آئے ہیں انہوں نے بعض مواقع پر غالبا سمن کا لفظ استعمال کیا ہے لیکن وہ محکمہ قضاء میں نہیں بلکہ امور عامہ میں کام کرتے ہیں۔ جس طرح کہتے ہیں کہ کوئی شخص نیا نیا مسلمان ہوا تھا جب لوگ کسی بات پر خوش ہوتے تو وہ سُبْحَانَ اللہ کہتے مگر وہ رام رام کہنا شروع کر دیتا۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ رام رام کیوں کہتے ہو تم تو مسلمان ہو۔ تو اس نے کہا اللہ اللہ گھستے ہی گھے گا او رام رام نکلتے ہی نکلے گا۔ خانصاحب نے ساری عمر انگریزی نوکری کی انہوں نے اگر سمن کا لفظ استعمال کر لیا تو یہ کوئی الزام کی بات نہیں تھی۔ خصوصاً جبکہ سمن کے معنے بلانے کے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے ہاں سمن کا لفظ نہیں ہوتا۔ پھر مدعی اور مدعاعلیہ کے الفاظ ہماری اپنی زبان کے ہیں اگر ہم اپنی بولی نہ بولیں تو اور کیا کریں۔ پس ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنی زبان کے چند الفاظ استعمال کئے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہم لوگوں کے مقدمات سنتے ہیں مگر ان کی مرضی سے کوئی مار کر انہیں اپنی جماعت میں شامل نہیں کرتا۔ پس جب وہ اپنی مرضی سے ہمارے سامنے مقدمات پیش کرتے ہیں اور ایسے مقدمات جن کے پرائیویٹ تصفیہ کی حکومت نے اجازت دے رکھی ہے تو ان کا