خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 343

خطبات محمود ۳۳ سال ۱۹۳۴ء میں کوئی احمدی داخل نہ ہو اگر کوئی وضو یا نہانے کیلئے بھی آئے تو اسے وہیں ہتھکڑی لگالو۔دیکھو نا خواہ کتنی بھی بڑی حیثیت کا احمدی ہو، اسے ہتھکڑی لگالینا پھر میں دیکھ لوں گا اس سے مراد سوائے خلیفہ کے یا ناظروں کے اور کون ہو سکتا ہے۔مگر کیا پچھلی ہسٹری بتاتی ہے کہ ان کی مسجدوں میں کبھی خلیفہ گیا، اگر نہیں تو سوائے اس کے کہ جماعت احمدیہ کی بلاوجہ دل آزاری کی جائے ان الفاظ کا اور کیا مطلب تھا۔جہاں مجسٹریٹ کسی کی ہتک کرتے ہوں، وہاں لوگوں کے اخلاق کہاں درست رہ سکتے ہیں۔پھر اگر بڑی سے بڑی حیثیت سے مراد جماعت کا خلیفہ نہیں تو کیا ناظر مراد ہیں مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ وہاں ناظر جایا کرتے ہیں یا نائب ناظر جایا کرتے ہیں یا نائب ناظر نہ سہی مختلف صیغوں کے انچارج ہی وہاں جایا کرتے ہیں اگر وہ بتادیں گے تو ہم ان کا حق سمجھ لیں گے کہ انہوں نے جو کچھ کہا درست کہا۔لیکن اگر ہمارے چھوٹے ٹے افسر بھی ان کی مسجدوں پر قبضہ کرنے کے مجرم کے کبھی مرتکب نہیں ہوئے تو اسے احمدیوں کا حملہ قرار دینا اور کہنا کہ اگر بڑی سے بڑی حیثیت کا احمدی بھی آجائے تو اسے تھکڑی لگالو، سوائے دل آزاری کے اور کیا مطلب رکھتا ہے۔گورنمنٹ بتلائے کہ سکھوں کے گردواروں اور ہندوؤں کے مندروں کے متعلق آئے دن جو جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ان میں کیا یہی کہا جاتا ہے کہ اگر بڑی سے بڑی حیثیت کا آدمی بھی آئے تو اسے ہتھکڑی لگا لو۔کیا سرکار کے دو قسم کے حکم ہوا کرتے ہیں۔ایک معمولی لوگوں کیلئے اور ایک بڑے لوگوں کیلئے اگر دو قسم کے حکم ہوں تب تو ان الفاظ کی تکرار کی ضرورت تھی اور اگر ایک ہی حکم ہوتا ہے تو ان الفاظ کا دلآزاری کے سوا اور کیا مطلب ہے۔گورنمنٹ کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے۔یعنی ڈپٹی کمشنر صاحب کو تفصیلی حالات لکھ دیئے گئے مگر انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی حالانکہ اس واقعہ میں ہیڈ کانسٹیبل کی بھی شرارت تھی کہ اس نے بلاوجہ احمدیوں کو ملوث کیا اور جھوٹی تار دے دی جو خود ایک جرم ہے اور مجسٹریٹ کی بھی غلطی تھی کہ اس نے جماعت احمدیہ کی ہتک کی اور مسجد سے لوگوں کو روکا جس کا اسے کوئی حق نہیں پہنچتا۔کئی ہائی کورٹ مساجد کے متعلق واضح فیصلہ کر چکی ہیں پھر ان کے خلاف حکم دینے کا مجسٹریٹ کو کہاں سے حق پیدا ہو گیا تھا مگر اسے بھی کوئی سرزنش نہیں ہوئی جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس ہتک میں بعض اعلیٰ حکام کا ہاتھ تھا۔وہ غیر احمدی جو جمعہ کیلئے اکٹھے ہوئے تھے، ان کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ یہ ہے کہ۔