خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 341

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء حالانکہ اگر دفعہ ۱۰۷ کا نفاذ جائز تھا تو احراریوں پر اس کا نفاذ ہونا چاہیے تھا۔ لطیفہ یہ ہے کہ نوٹس میں بھی یہ فقرہ نہیں لکھا گیا کہ تم اشتعال دلاتے ہو بلکہ فقرہ یہ ہے کہ تم نوٹ لیتے ہو۔ گویا م تسلیم کیا گیا ہے کہ ہمارے آدمی صرف خاموشی سے نوٹ لیتے تھے اور مجسٹریٹ صاحب کی عجیب ذہنیت نے یہ فیصلہ کیا کہ اس سے احرار احرار کو فوری اور جائز جوش آنے کا احتمال ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کل مجسٹریٹ صاحب کے ذہن میں یہ بات آجائے کہ احمدیوں کے کوٹ پہننے پر یا عمامہ باندھنے پر احراریوں کو اشتعال آتا ہے تو کیا ثبوت ہے کہ وہ کل کو ہمیں کوٹ پہننے اور عمامہ باندھنے سے نہیں روک دیں گے۔ ہماری کون سی بات ہے جس پر احراریوں کو اشتعال نہیں آتا وہ تو ہماری ہر بات کو دیکھ کر جلتے بجھتے رہتے ہیں۔ آج کل الیکشن ہے اس میں ووٹ دینے پر بھی انہیں اشتعال آتا ہے، ہمارے مسلمان کہلانے پر انہیں اشتعال آتا ہے ، ہم حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کو مسیح موعود مانتے ہیں اور انہیں جوش آتا ہے، ہم انہیں نبی تسلیم کرتے ہیں تو انہیں غصہ آجاتا ہے، ہر اک شخص جو احمدیت میں داخل ہوتا ہے ان کو حسد کی آگ میں جلانے کا موجب ہوتا ہے، پھر کیا وہ ان سب باتوں سے ہم لوگوں کو دفعہ ۱۰۷ کے ماتحت روک دیں گے۔ آخر وہ کونسا ما بہ الامتیاز ہے جس سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ جلسہ میں امن سے نوٹ لینے پر تو وہ نوٹس دے سکتے ہیں لیکن اوپر کی باتوں پر نہیں۔ پس اس نوٹس نے بتا دیا ہے کہ آئندہ کیلئے کسی قسم کی آزادی احمدی جماعت کو حاصل نہیں ہوگی کیونکہ حکومت نے اس نوٹس دینے والے کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی حالانکہ اس تک یہ معاملہ پہنچ چکا ہے۔ پس ہم مجبور ہیں کہ یہ سمجھیں کہ کم سے کم اس ضلع کی حکومت احراری ہے اور ہم پر برطانیہ نہیں بلکہ اس کے بعض مجسٹریٹوں کے ذریعہ سے احرار حکومت کر رہے ہیں۔ آٹھواں واقعہ یہ ہے کہ قادیان کے کچھ غیر احمدی لوگ احراریوں کے مجرے رویہ سے تنگ آکر اور کچھ ہمارے آدمیوں کے کہنے پر کہ تمہارے تعلقات ہمارے ساتھ اچھے ہیں تم کیونکر ہماری نسبت احرار کی گالیوں کو برداشت کرتے ہو، اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ وہ جمعہ الگ پڑھیں۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ سے وہ الگ اس محلہ کی مسجد میں جمعہ پڑھا کریں جو قادیان کے شمال کے آخری سرے پر ہے اور خوجوں والی مسجد کہلاتی ہے۔ مسجد ارائیاں جس میں احراری نماز جمعہ پڑھتے ہیں وہ قادیان کے جنوب کی طرف ہے گویا