خطبات محمود (جلد 15) — Page 340
خطبات محمود ۳۴۰ سال ۱۹۳۴ء باقاعدہ آتے ہیں اور نوٹ لیتے ہیں مگر ہم نے کبھی بُرا نہیں منایا۔ایک دن تو غلطی۔پولیس والا اپنی وردی ہی میں آکر میرے خطبہ کو لکھنے کیلئے مسجد میں بیٹھ گیا حالانکہ ایسے موقعوں پر مسجد میں ان کو وردی پہن کر آنے کا حکم نہیں۔بہرحال ہمیں پتہ ہے کہ وہ ہماری تقریروں کے نوٹ لے جاتے ہیں بلکہ ہم خود تیار ہیں کہ اگر بعض نوٹ ان کے رہ جائیں تو وہ ہم سے پوچھ لیں۔پس تقریروں کے نوٹ لینے میں کوئی حرج نہیں۔جلسہ سالانہ کے ایام میں سینکڑوں لوگ جن میں ہندو اور سکھ بھی ہوتے ہیں، میری تقریروں کے نوٹ لیتے ہیں اور مجھے اس سے کبھی تکلیف نہیں ہوئی بلکہ خوشی ہوتی ہے کہ لوگ ان باتوں کو دہرائیں گے۔اور یہ صاف بات ہے کہ اچھی بات کے نوٹ لئے جانے پر گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی اور جبکہ ہم قانون شکنی بھی نہ کر رہے ہوں تو کسی کے نوٹ لینے پر ہمیں کیا شکوہ ہو سکتا ہے۔پس ہمارے آدمیوں نے نوٹ لینے شروع کر دیئے لیکن مجسٹریٹ صاحب نے ناظر امور عامہ اور لوکل پریذیڈنٹ کو یہ نوٹس دے دیا کہ گورنمنٹ کو اطلاع ملی ہے کہ احمدی وہاں جاکر نوٹ لیتے ہیں آئندہ وہاں کوئی احمدی نہ جایا کرے اگر کوئی جائے گا تو اس کو زیر دفعہ نمبر ۷ ۱۰ ضابطہ فوجداری گرفتار کرلیا جائے گا۔حالانکہ صرف نوٹ لینا ایسا فعل نہیں ہے جو دفعہ نمبر ۷ ۱۰ کے ماتحت آئے۔اگر ایسا ہی ہو تو گورنمنٹ کو تمام کالجوں پر یہ لکھ کر لگا دینا چاہیے کہ آئندہ کوئی طالب علم نوٹ نہ لیا کرے، ورنہ اس پر دفعہ ۱۰۷ کا نفاذ کردیا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ جو نوٹ لئے گئے وہ نیک باتوں کے تھے یا بری باتوں کے، اگر نیک باتوں کے تھے تو اس پر اعتراض کیا ہے اور اگر وہ بڑی باتیں تھیں تو گورنمنٹ اب تک خاموش کیوں رہی۔ناظر صاحب امور عامہ تو اس دن یہاں تھے نہیں، لوکل پریذیڈنٹ سے مجسٹریٹ کے اس تحریری نوٹس پر دستخط کروائے گئے۔قانونی مشیروں کا مشورہ ہمیں یہی تھا کہ اس نوٹس کی خلاف ورزی کی بجائے کیونکہ یہ نوٹین ناجائز اور قانون کے غشاء کے خلاف ہے مگر میں نے کہا کہ چونکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم گورنمنٹ کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں، اس لئے گو نہایت اعلیٰ درجہ کے قانون دانوں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو شامل کرتے ہوئے مجھے یہ مشورہ دیا کہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے کیونکہ ہائی کورٹ کے متواتر فیصلے موجود ہیں کہ اگر جائز کام کرتے ہوئے کسی کو اشتعال آتا ہے تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ اسے پکڑے جسے اشتعال آتا ہے نہ کہ جائز کام کرنے والے کو مگر ہماری طرف سے پھر بھی اس نوٹس کا احترام کیا گیا۔پایه