خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 322

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء کہا جاسکتا ہے کہ گاندھی جی کے ساتھ مسلمان نہ تھے یا تھوڑے تھے اس امر کو بھی مد نظر رکھ لیا جائے تو موجودہ مردم شماری کی رُو سے ہندوستان کی آبادی پینتیس کروڑ ثابت ہوتی ہے اور مسلمانوں کی آبادی آٹھ کروڑ۔چونکہ اکثر عیسائی اور کچھ ہندو بھی گاندھی جی کے ساتھ نہ تھے اگر دس کروڑ لوگ اس مردم شماری سے نکال دیئے جائیں تو پچیس کروڑ آدمی باقی رہ جاتے ہیں۔یہی تعداد مانتے ہوئے بھی میں کہتا ہوں کہ جہاں پچیس کروڑ آدمی ایک کام نہ کر سکا وہاں اڑھائی تین لاکھ آدمی کیا کام کر سکتا ہے۔گو میرے نزدیک گاندھی جی اب جس سکیم کو چلانا چاہتے ہیں، وہ پہلے سے بہت اعلیٰ ہے۔پہلے ان کی سکیم تو اچھی ہوتی تھی مگر اس کے پورا کرنے کے سامان ناقص ہوتے تھے۔اب کے انہوں نے آلات کو درست کرنے کی طرف توجہ کی ہے اور بہت عمدہ اصول تجویز کئے ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر وہ جوش میں آکر اپنا کام خراب نہ کرلیں تو اب ان کیلئے فتح پانا ممکن ہو گیا ہے۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔بظاہر حالت جو اس وقت لوگ سمجھتے ہیں یہی ہے کہ کانگرس شکست کھا گئی ہے۔پس اگر مسٹر گاندھی پچیس کروڑ آدمیوں کی مدد سے ناکام رہے تو ہم انسانی تدابیر سے کس طرح جیت سکتے ہیں۔مثل مشہور ہے "کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا"۔مگر جس طرح یہ مثال ہے ایک اور بھی مثال ہے کہ ”جانور کس کھونٹے پر ناچے"۔جانور کھونٹے والے پر ناچا کرتا ہے۔گھوڑا جب ہنہناتا ہے تو وہ اپنے آقا کے دعوئی پر ہنہناتا ہے۔ہم بھی کہتے ہیں کہ ہمارا ایک آتا ہے جس نے ہمیں دنیا کی اصلاح کیلئے کھڑا کیا۔پس اسی کا کھونٹا ہے جس کے سہارے ہم کھڑے ہیں ورنہ ہماری ہستی ہی کیا ہے۔ہم دنیا کی نگاہوں میں ذلیل اور حقیر ہیں، دولت ہمارے پاس نہیں، ظاہری علم ہمارے پاس نہیں، جبھہ ہمارے پاس نہیں، بلکہ ایک پہلوان کے مقابلہ میں جس طرح دودھ پیتا بچہ ہوتا ہے اور وہ جب چاہے اس کی گردن مروڑ سکتا ہے، اسی طرح ہم دنیا کے مقابلہ میں ہیں مگر ہم جس چیز پر نازاں اور مطمئن ہیں، وہ خدا کی مدد ہے اور خدا کی مدد ظالموں کو نہیں آیا کرتی۔قرآن کریم میں متواتر بیان کیا گیا ہے کہ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔پس اگر ہم بھی ظالم بن جائیں تو کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔اگر ہم اپنی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے امذہبی اصول کی پابندی کریں جن میں سے ایک اہم اصل یہ ہے کہ ہم قانون شکنی نہ کریه کسی کی جان اور مال پر حملہ نہ کریں، ناجائز الزام نہ لگائیں اور جھوٹ نہ بولیں۔ان ساری ریں