خطبات محمود (جلد 15) — Page 311
خطبات محمود ۳۱۱ سال ۶۱۹۳۴ انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے ہو جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے لیکن دوسری طرف حکومت ہم سے یہ سلوک کرتی ہے کہ کہتی ہے کہ تم مرزا محمود احمد سول نافرمانی کرنے والے ہو۔ اور جب یہ واقعات کسی عقلمند کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ تسلیم کرے گا کہ حکومت کا رویہ صحیح نہیں۔ میں نے یہ خطبہ جان بوجھ کر اس ہفتہ پر رکھا تھا کہ دیکھوں حکومت اس کا ازالہ کرتی ہے یا نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس نے دلداری کی کوشش کی ہے مگر گہرے زخم ظاہری مرہم سے شفاء نہیں پایا کرتے۔ ہم کو فخر تھا کہ ہم نے پوری کوشش کرکے ملک میں امن قائم کر رکھا ہے اور ملک میں ایک ایسی داغ بیل ڈال دی ہے کہ فساد مٹ جائے مگر حکومت نے ہماری اس عمارت کو گرادیا ہے، ہمارے نازک احساسات مجروح کئے گئے ہیں، ہمارے دل زخمی کر دیئے گئے ہیں، ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا کسی سے کچھ نہیں مانگا مگر حکومت اور رعایا خواہ مخواہ ہماری مخالف ہے اور مسیح ناصری کا قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر १९ ابن آدم کیلئے سردھرنے کی بھی جگہ نہیں ہے شه پس اے احمدی جماعت! جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بنائے گا تمہارا فرض ہے کہ اپنے لئے خدا کے فضل سے آپ گھر بناؤ - اس الہام میں یہی اشارہ ہے کہ یہ زمین اور آسمان تمہیں کانٹوں کی طرح کائیں گے آخر ہم نے کیا قصور کیا ہے ملک کا یا حکومت کا کہ ہم سے یہ دشمنی اور عناد کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے؟ کل پہرہ دینے والوں میں سے ایک خوش الحانی سے غالب کا شعر پڑھ رہا تھا کہ دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم کوئی ہمیں اُٹھائے کیوں میرے دل میں اس وقت خیال گزرا ہے کہ یہ ہمارے حسب حال ہے۔ ہم کسی کے گھر پر حملہ آور نہیں ہوئے، حکومت سے اس کی حکومت نہیں مانگی، رعایا سے اس کے اموال نہیں چھینے، بلکہ اپنی مساجد ان کے حوالہ کردیں، اپنی بیش قیمت جائدادیں ان کو دے کر ہم میں