خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 305

خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۴ء (پنجم) حکومت نے سخت نا انصافی کی کہ احراریوں کا جن کا یہاں کوئی واسطہ اور کام نہ تھا یہاں آنا جائز قرار دیا اور احمدیوں کا جن کا یہ مقدس مقام ہے ان کے یہاں آنے کو موجب فساد قرار دیا حالانکہ وہ اپنے گھر آرہے تھے اور احراری دوسرے کے گھر۔ اگر ایسا نوٹس دینے کی ضرورت تھی تو وہ احرار کو دیا جانا چاہیئے تھا۔ ہمیں ایسا نوٹس دینے کے تو یہ معنے ہیں کہ وہ گھر والوں کو تو حکم دیتی ہے کہ اپنے گھر کی حفاظت کیلئے اکٹھے ہو کر نہ بیٹھیں اور ڈاکوؤں اور حملہ آوروں کو جمع ہونے کی اجازت دیتی ہے۔ (ششم) حکومت نے بے انصافی اور ظلم کیا جب اس نے ہمارے لئے اس قانون کو استعمال کیا جو باغیوں اور انارکسٹوں کیلئے بنایا گیا ہے۔ اور جسے پاس کرتے وقت حکومت نے ملک کے نمائندوں کو یقین دلایا تھا کہ اسے بڑی احتیاط سے استعمال کیا جائے گا۔ اگر یہ قانون احمدیوں پر اپنے گھروں کی حفاظت کیلئے جمع ہونے پر چسپاں ہو سکتا ہے تو دنیا کی کون ایسی ہستی ہے جو اس سے باہر رہ سکتی ہے۔ کل کو حکومت کسی شخص کو مال روڈ پر چھینک مارنے سے روک سکتی ہے کہ کوئی راہ گیر سوچتا جا رہا ہو گا اس کے خیالات میں انتشار پیدا ہو گا وہ جوش میں آکر لڑے گا اس کے رشتہ دار آئیں گے، ادھر تمہارے رشتہ دار جمع ہوں گے اور اس طرح قتل و غارت کا احتمال ہے اس لئے چلو جیل خانہ میں۔ کون سا ایسا انسان ہے جو اس قسم کے چکروں سے اس قانون کے ماتحت گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ خربوزے کھا کر بازاروں میں چھلکے پھینکنے والوں کو بھی پکڑا جاسکتا ہے کہ کسی کا پاؤں پھلے گا اس کے متعلقین لڑائی کریں گے اور اس طرح ملک میں بدامنی پیدا ہوگی۔ کیا کوئی معقول انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ صحیح استعمال ہے اس قانون کا اس کیلئے جس نے خود اُس کے بنانے والوں سے بھی زیادہ قیام امن کی کوشش کی ہے۔ جس نے اور جس کی جماعت نے اس وقت سول نافرمانی اور اس قسم کی دوسری موومنٹوں کا مقابلہ کیا جب یہ افسر جو آج ہمیں باغی قرار دے رہے ہیں، آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہوا کرتے تھے۔ پھر یہ لوگ تنخواہیں لے کر کام کرتے تھے اور میں نے اور میری جماعت نے لاکھوں روپیہ اپنے پاس سے خرچ کر کے بدامنی پیدا کرنے والی تحریکات کا مقابلہ کیا۔ پھر کس قدر ظلم ہے کہ جو قانون ان تحریکات کے انسداد کیلئے وضع کیا گیا وہ سب سے پہلے ہمیں پر استعمال کیا جاتا ہے جنہوں نے ملک معظم کی حکومت کو قائم کرنے کیلئے ملک کو اپنا دشمن بنالیا ہے۔ احرار کی تقریریں پڑھو ان کو زیادہ غصہ اسی بات پر ہے کہ ہم حکومت کے