خطبات محمود (جلد 15) — Page 298
خطبات محمود ۲۹۸ سال ۱۹۳۴ء سپرنٹنڈنٹ پولیس یہاں آئے۔چوہدری فتح محمد صاحب خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب اور میاں شریف احمد صاحب کو بلایا اور باتیں کیں۔ہمارے آدمیوں نے اپنے بعض عذرات پیش کئے جیسا کہ انسان کا قاعدہ ہے کہ ایسے موقع پر اپنے شکوے بیان کرتا ہی ہے۔لیکن آخر میں قطعی اور غیر مشتبہ الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ ہم جاری شدہ سرکلر کو منسوخ کردیں گے اور اس انتظام پر ہمیں پوری تسلی ہے۔یہ سولہ اکتوبر کی ڈاک جانے کے بعد کے واقعات ہیں۔اس کے بعد سترہ کو پہلی ڈاک میں جماعتوں کو اطلاع دے دی گئی۔وہ اطلاع جلسہ سے پہلے جماعتوں کو پہنچ سکتی تھی۔چنانچہ وہ پہنچی اور کوئی آدمی اس سرکلر کے ماتحت قادیان نہیں آیا۔یہ چٹھی جو پہلی ہدایت کو منسوخ کرنے کے متعلق تھی، ڈپٹی کمشنر اور دوسرے حکام کو بھی بھجوادی گئی۔غرضیکہ افسران سے بالوضاحت کہہ دیا گیا کہ ہم باہر سے آدمی نہیں بلائیں گے اور اس کیلئے چٹھی بھی جاری کردی گئی اور ہم اطمینان سے بیٹھ گئے کہ ہم نے حکومت سے پوری طرح تعاون کرلیا ہے۔میں باہر گیا ہوا تھا سترہ کی شام کو قادیان آیا رستہ میں لاہور، امرتسر وغیرہ مقامات پر کئی لوگ ملتے اور دریافت کرتے رہے کہ کیا ہمارے پہنچنے کی ضرورت ہے۔میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ ہمیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ پولیس کا انتظام کافی ہوگا اس لئے ضرورت نہیں۔ہاں اگر ہمیں پتہ لگا کہ گورنمنٹ خاطر خواہ انتظام نہیں کر رہی تو پھر اطلاع دے دی جائے گی۔ہم مطمئن تھے کہ ہم نے حکومت کے ساتھ پورا پورا تعاون کرلیا ہے۔ساڑھے آٹھ نو بجے میں یہاں پہنچا اور کھانا وغیرہ کھا کر اور نماز سے فارغ ہو کر میں گیارہ بجے کے قریب بیٹھا تھا کہ کسی نے آکر اطلاع دی کہ مجسٹریٹ علاقہ آئے ہیں اور مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔میں گیا اور انہیں بلاکر بٹھایا۔انہوں نے ایک کاننذ مجھے نکال کر دیا کہ یہ دیکھ لیں۔حکومت پنجاب کی طرف سے حکم تھا۔جس میں لکھا ہے۔وہ Order under section 3 (1) (d) of the Punjab Criminal Law (amendment) act 1932۔Where as the Punjab Government is satisfied that there are reasonable grounds for believing that you Mirza Bashir-ud-Din Mahmood Ahmad of Qadian in the District of Gordaspur have been summoning persons to Qadian to