خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 290

خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۴ء خیالات کی خود مخالفت کرنے والا گھر تا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تبلیغی جلسہ نہ تھا اور یہ ایسی واضح بات ہے کہ گورنمنٹ کیلئے بھی اس کا سمجھنا مشکل نہ تھا کیونکہ اس کا حکم تھا اور اس نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ کوئی احمدی ان کے جلسہ میں نہ جائے اور تبلیغ ہمیشہ دوسرے کو کی جاتی ہے اگر احمدیوں کو وہاں جانے کی ہی اجازت نہ تھی تو تبلیغ کسے کرنی تھی۔حکومت کا ہم سے یہ مطالبہ کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ تسلیم کرتی ہے کہ یہ تبلیغی جلسہ نہ تھا۔پھر جلسہ کی دوسری غرض تربیت ہوتی ہے۔تربیت کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی بڑا عالم اس جگہ ہو یا وہ اس تحریک کا مرکز ہو۔لوگ ایک وقت میں وہاں جمع ہوں اور اکٹھے فائدہ اٹھا سکیں اور ایک مقررہ وقت پر آکر باتیں سُن جائیں جیسا کہ ہمارا سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔یہاں خلیفہ وقت دوسرے ذمہ دار کارکن اور لیڈر ہوتے ہیں جو جماعت کو اپنے اپنے خیالات تعلیمی سے مستفید کرتے ہیں۔خلیفہ ساری جماعت تک نہیں پہنچ سکتا، علماء نہیں پہنچ سکتے اس لئے ایک موقع پر سب لوگ آکر جمع ہو جاتے ہیں اور سُن جاتے ہیں۔لیکن یہاں تو ان کا کوئی عالم نہ تھا، سننے والے اور سنانے والے سب باہر سے آئے تھے اور اس صورت میں وہ زیادہ آسانی کے ساتھ لاہور یا امرتسر میں جلسہ کر سکتے تھے۔لوگ یہاں امرتسر، لاہور، جالندھر وغیرہ شہروں سے آئے، بعض پشاور اور ملتان وغیرہ دور کے مقامات سے بھی محدود تعداد میں شریک ہوئے لیکن یہاں وہ کس کی تقریریں سننے آئے تھے۔ماموں کشمیری کی، نورے کشمیری کی یا عزیز کشمیری کی۔قادیان کا وہ کون سا باشندہ ہے جس کی تقریریں سننے کیلئے آئے تھے۔مولوی عطاء اللہ صاحب امرتسر میں، مولوی ظفر علی صاحب اور مولوی مظہر علی صاحب لاہور میں مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانہ میں رہتے ہیں۔انہی لوگوں نے تقریریں کیں اس لئے اس اجتماع کیلئے بہترین جگہ لاہور یا امرتسر ہو سکتی تھی۔اگر وہاں جلسہ ہوتا تو ہیں، پچھتیس ہزار لوگ بھی جمع ہو سکتے تھے اور اس طرح تعلیم و تربیت بھی اچھی طرح ہو سکتی تھی۔اور بہ نسبت قادیان کے رہائش اور طعام کا انتظام بھی بخوبی ہو سکتا تھا۔پس سوال یہ ہے کہ جب تقریریں کرنے والے اور سننے والے دونوں باہر سے آئے تھے تو جلسہ یہاں کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔یہ ایک ایسی عام بات ہے کہ حکومت اسے بخوبی سمجھ سکتی ہے۔جس صورت میں لیکچرار اور سامعین دونوں باہر سے آئے اور جس صورت میں کہ انتظام کا بھی مقامی لوگوں پر انحصار نہ تھا اس جلسہ کی غرض نہ تو تعلیمی ہو سکتی ہے نہ تبلیغی اور گورنمنٹ نے اس بات کو تسلیم