خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 243

خطبات محمود ۲۴۳ سال ۱۹۳۴ء کیرک ہے۔چنانچہ جب آدمی واپس کرنے کیلئے گیا تو دکاندار نے وہ رکھ لی اور یہ کہہ کر کہ ہمیں علم نہ تھا حضرت صاحب کے گھر جانی ہے اچھے آٹے کی دوسری بوری دے دی جس کے معنے یہ ہیں کہ جہاں اعتراض کا خیال ہو وہاں وہ ایسا نہیں کرتے ورنہ کرلیتے ہیں اور انہیں علم ہوتا ہے۔پس آئندہ اس امر کا خیال رکھا جائے کہ کوئی دکاندار ایسا آنا فروخت نہ کرے جس میں کیرک یا مٹی کی ملونی ہو اسی طرح دوسری اشیاء بھی خراب اور میلی کچیلی نہ ہوں اس سے جسمانی صحت بھی درست ہوگی اور ایمانوں میں بھی چُستی پیدا ہوگی۔جب قیمت ادا کرنی ہے تو کیوں ناقص چیز لی جائے۔یہ خیال کرنا کہ چلو تھوڑی سی خرابی ہے اسے جانے دو نہایت ہی معیوب بات ہے اور ایسا کہہ کر بات کو ٹال دینے والا اپنی بد دیانتی کا ثبوت دیتا ہے۔اُس کے اس قول کے معنے یہ ہیں کہ جب اسے موقع ملے گا وہ اس سے بہت زیادہ بد دیانتی کرے گا۔غرض یہ چیزیں اخلاق کو برباد کر دینے والی ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے۔وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ سے یعنی کم تولنے والوں پر خدا تعالی کی لعنت ہوتی ہے۔دراصل چھوٹی چھوٹی باتیں ہی بڑی باتوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں اس لئے انہیں کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ایک دفعہ میں مغرب کی نماز پڑھا رہا تھا اور ایک خاص وجہ سے میں اس میں ایک ہی سورۃ پڑھا کرتا ہوں مگر اس دن ایسا معلوم ہوا کہ باقی سب قرآن مجھے بھول چکا ہے اور صرف وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ والى سورۃ یاد ہے۔میں نے اسے کسی الہی حکمت پر محمول کیا اور سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے۔نماز کے بعد میں نے حکم دیا کہ سب دکانداروں کے بیٹے تو لے جائیں۔چنانچہ ہے تو لنے پر معلوم ہوا کہ کئی ایک کے وزن کم تھے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس خرابی کو دور کریں۔دکانداروں کی ہر چیز کو دیکھیں اور خیال رکھیں کہ بھاؤ ٹھیک ہوں، وزن پورے ہوں اور چیز صاف ستھری ہو، ہر چیز ملونی سے پاک ہو، دوائیں درست اور صحیح ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ شدید طاعون پڑی تو لوگ کہتے تھے کہ دکاندار ایک ہی بوتل سے سب عرق دے دیتے ہیں، اسی سے گلاب، اسی۔گاؤ زبان اور اسی سے کیوڑہ وغیرہ۔حالانکہ دوائی میں ادنیٰ سی غلطی سے بھی بعض اوقات جان ضائع ہو جاتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست اس امر کی طرف توجہ کریں گے اور تاجر ہر قسم کی بد دیانتی کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔الفضل ۲۸ - جنوری ۱۹۶۰ء) :::کرک ریت کے باریک ذرات له المطففين: ٢