خطبات محمود (جلد 15) — Page 235
خطبات محمود ۲۳۵ سال ۱۹۳۴ء ہے یہ ایک کوئی عیب بیان کرے گا تو میرے نزدیک وہ مجرم سمجھا جائے گا۔میں نے دیکھا بہت بڑا عیب ہے جو اصلاح کے نام پر کیا جاتا ہے لوگ اس بہانہ کی آڑ میں کہ ہم تو اصلاح کیلئے دوسرے کے عیب بیان کر رہے ہیں جگہ جگہ دوسروں کی عیب چینی کرتے پھرتے ہیں حالانکہ وہ خود اسلام کے خلاف عمل کر رہے ہوتے ہیں۔قرآن کریم نے سورہ نور میں اس امر کا فلسفہ کھول کھول کر بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ قوم کو تباہ کرنے والا طریق ہے مگر پھر بھی ہوتے ہیں مخص لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔قرآن کریم میں صاف طور پر بیان کیا گیا ہے کہ جو کسی دوسرے کے پاس کسی کا عیب بیان کرتا ہے وہ اشاعتِ فحش کرتا ہے ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ آج کل تو لوگ بڑی چوریاں کرتے ہیں وہ قوم کی اصلاح نہیں کرتا بلکہ انہیں ترغیب دیتا ہے کہ تم بھی چوری کرو۔یہ ایک ایسا فلسفیانہ نکتہ ہے کہ کوئی قوم اسے نظر انداز کر کے ترقی نہیں کر سکتی۔در حقیقت اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں عام طور پر دین کو قبول کرنے والے وہی لوگ جنہوں نے یہ سنا ہوا ہوتا ہے کہ ایک خدا ہے اور اس نے اپنا رسول بھیجا ہے ہمیں اس کے احکام پر عمل کرنا چاہیے۔وہ نمازیں پڑھیں گے مگر اس لئے نہیں کہ نماز میں فلاں فلاں حکمت ہے بلکہ اس لئے کہ خدا کا یہ ایک حکم ہے، روزے رکھیں گے مگر اس کی حکمت انہیں معلوم نہیں ہوگی۔پس دنیا کا بیشتر حصہ ایسا ہوتا ہے جو اصولی طور پر چند باتیں سمجھ لیتا ہے اور باقی باتوں میں تقلیدی رنگ اختیار کر لیتا ہے خواہ بظاہر وہ غیر مقلد ہی کیوں نہ کہلاتا ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ہزار میں سے ۹۹۹ یا ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سو ننانوے ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو تقلیدی طور پر اسلامی احکام پر عمل کرتے ہیں۔حکمتوں کو سمجھنے والے ان میں بہت کم ہوتے ہیں وہ اتنی بات سمجھ لیتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی ہر بات کو دوسری باتوں پر مقدم رکھنا چاہیئے۔اس کے بعد وہ کسی حکمت کے معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔صرف چند آدمی ایسے ہوتے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے تَفَقُهُ۔الدين عطا کیا جاتا ہے باقی سب مقلد ہوتے ہیں خواہ وہ حریت کے دلدادہ ہی کیوں نہ في کہلائیں۔سورہ نور میں جو حکم دیا گیا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ جب اسلام کے احکام کی حکمت سمجھ کر عمل کرنے والے لوگ بہت قلیل ہیں تو باقی لوگ وہی رہ جاتے ہیں جو دوسروں سے اثر قبول کرتے ہیں۔جب انہیں معلوم ہو کہ دنیا یوں کرتی ہے تو وہ بھی اسی رنگ میں