خطبات محمود (جلد 15) — Page 18
خطبات محمود ۱۸ سال ۱۹۳۴ء جائیں فوراً سبحان اللہ کہہ دیتے ہیں۔ بظاہر ایک انسان ایسے شخص کے متعلق خیال کر سکتا ہے کہ یہ کتنا رقیق القلب ہے کہ اچھی بات سننے پر بے اختیار اس کے منہ سے سُبْحَانَ اللهِ نکل جاتا ہے اور دوسرا کتنا سنگدل ہے کہ خاموش بیٹھا رہا مگر اصل بات یہ ہوتی ہے کہ مختلف انسان مختلف باتوں سے متأثر ہوتے ہیں۔ بعض پر ایسی باتوں کا اثر ہوتا ہے جن میں قربانی کا ذکر کیا گیا ہو اور بعض پر ایسی باتیں اثر کرتی ہیں جن میں صبر کا ذکر ہو۔ پس بعض دفعہ ایک انسان اس لئے بھی خاموش رہتا ہے کہ جو بات بیان کی گئی ہو وہ اس کی طبیعت کے مطابق نہیں ہوتی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ نیکی میں کم درجہ رکھتا ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ اس امر کی طرف میلان نہیں رکھتا۔ مگر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے منہ سے جب سبحان اللہ نکلتا ہے تو پاس بیٹھنے والا بھی گھبرا کر سُبحان اللہ کہہ دیتا ہے۔ گویا وہ خیال کرتا ہے کہ یہ بھی ایک نیکی ہے جس میں مجھے پیچھے نہیں رہنا چاہیے حالانکہ اگر دوسرا بجائے سُبْحَانَ اللهِ کہنے کے چیخ مارتا تو شاید یہ بھی اس خیال سے چیخ مار دیتا کہ کہیں کوئی سانپ نکل آیا ہے یا آگ لگ گئی ہے۔ ایسی طبیعت والوں کا رونا اللہ تعالی کے حضور کام نہیں آتا۔ مگر دوسرے آدمی کا ایک آنسو بھی اسے بابرکت بنا دیتا ہے۔ جانتے ہو جب چور پکڑے جاتے ہیں تو وہ بھی رویا کرتے ہیں۔ میرے ایک دفعہ گھوڑے چوری ہو گئے۔ پولیس والے جب چوروں کو پکڑ کر میرے پاس لائے تو میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور وہ منتیں کرنے لگے کہ ہمیں چھوڑ دیا جائے ہم سے غلطی ہو گئی کہ آپ کے گھوڑے چرا لئے ، آپ جیسے بزرگوں کی چیز چرا کر بھی کوئی انسان بچ سکتا ہے، ایسا مال کبھی پچتا ہی نہیں۔ پولیس والے ساتھ تھے وہ کہنے لگے آپ انہیں معاف کر دیں۔ معلوم نہیں وہ کیوں سفارش کرتے تھے۔ یہ بھی سنا گیا تھا کہ پولیس والوں نے ان سے رشوت لے لی تھی۔ بہر حال میں نے اُنہیں معاف کر دیا مگر میں نے دیکھا کہ ان کا رونا اُسی منٹ کیلئے تھا بعد میں وہ پھر پہلی حالت پر آگئے۔ مگر اُن کی یہ بات بچی ثابت ہو گئی کہ ایسا مال کہیں پچتا ہے؟ اللہ تعالی نے انہیں ایک اور مقدمہ میں پکڑوا دیا۔ ڈپٹی کمشنر کے سامنے جب مقدمہ پیش ہوا تو اُس نے کہا تم عادی چور ہو میں نے سنا ہے تم نے اس سے پہلے مرزا صاحب کے گھوڑے چُرائے تھے اب میں تمہیں ڈیل سزا دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ سات سات سال کیلئے قید ہو گئے۔ بعد میں ان کے خاندان پر بھی تباہیاں آئیں۔ اب