خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 17

خطبات محمود 16 سال ہیں جیسے بلی کا پیشاب۔پس وہی رونا کام دے سکتا اور اُسی عجز سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے جو ہمیشہ انسان کے ساتھ رہے۔ورنہ جس انسان میں یہ نہیں اُس کو تم دیکھو گے کہ دعاؤں میں تو خوب روتا ہے لیکن دوسرے وقت کئی قسم کے ظلموں کا ارتکاب کرلیتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص کو دیکھو گے کہ وہ بیٹھا دعا کر رہا ہے مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کی خشک آنکھیں بے اثر جائیں گی اور دوسرے کی تر آنکھیں اللہ تعالی کی رحمت کو زیادہ جذب کریں گی۔نہیں۔بلکہ خشک آنکھوں والے کی دعا اللہ تعالی زیادہ قبول کرے گا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ رونے والا بناوٹ کر رہا ہے اور دوسرا حقیقی مجز سے دعا مانگ رہا ہے۔پھر بعض لوگوں کی طبیعت ایسی ہوتی ہے کہ ذرا کسی کو روتا دیکھیں وہ خود بھی رونا شروع کر دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کا بھی دعا میں رونا کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔زیادہ سے زیادہ اس رونے کو طبیعت کا میلان کہا جاسکتا ہے اور کچھ نہیں۔اس قسم کے لوگ اگر کسی کو غصہ میں دیکھیں گے تو انہیں بھی غصہ آجائے گا اور ان کا جی چاہے گا کہ لٹھ لے کر دوسرے کا سر پھوڑ دیں۔پس مت خیال کرو کہ اس قسم کے لوگوں کا دوسرے کو روتے ہوئے دیکھ کر رو پڑنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی وقعت رکھتا ہے۔یہ سب ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا رونا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب نہیں کر سکتا۔پس ان عارضی باتوں پر خوش نہیں ہونا چاہیئے۔جو شخص دوسرے کو دیکھ کر نقل کرنا شروع کردیتا ہے، وہ تو ایسا ہے جیسے کوئی دوسرے کا کپڑا پہن لے مسجد میں دعا کے وقت ہی دیکھا جاتا ہے کہ ایک آدمی اگر شیخ مارے تو کئی کمزور لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اسی سے متاثر ہو کر رونے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح مجلس وعظ میں دیکھا جاتا ہے کہ بعض تو اپنی طبائع پر زور ڈال کر بیٹھے رہتے اور باتیں سنتے رہتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں جن کی توجہ کسی اور طرف مشغول ہوتی ہے۔وہ بیٹھے تو وعظ کی مجلس میں ہوتے ہیں مگر ان کی توجہ گھر کے کسی کام کی طرف ہوتی ہے۔پھر ان میں بھی بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو اپنی طبیعت پر قابو رکھتے ہیں اور بعض قابو نہیں رکھتے اس لئے جب خاص طور پر کوئی مؤثر بات بیان کی جاتی ہے تو بعض کے منہ سے بے اختیار سُبحَانَ اللہ نکل جاتا ہے مگر جو نفس پر قابو رکھتے ہیں، وہ خاموش رہتے ہیں۔ہاں جو بے دھیان ہوتے ہیں وہ بھی یکدم چونک پڑتے ہیں اور سونے والے بھی بیدار ہو جاتے ہیں اور سُبحَانَ اللہ کی آواز سنتے ہی یہ خیال کرکے کہ ہم پیچھے نہ رہ