خطبات محمود (جلد 15) — Page 16
خطبات محمود 14 سال ۱۹۳۳ء وہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کا ایک بچہ فوت ہو گیا۔ایک خادمہ جو میری کھلائی بھی اتنا روئی کہ بچے کی ماں بھی اتنا نہیں روئی تھی۔حضرت اماں جان کو خیال آیا کہ اس رونے میں ضرور کوئی خاص بات ہے۔انہوں نے اس سے پوچھا تو اتنا کیوں روئی ہے۔پہلے تو وہ کہنے بچہ جو فوت ہو گیا ہے اس کے صدمہ سے روتی ہوں۔حضرت اماں جان نے کہا، نہیں کوئی اور بات ہے۔سچ سچ بتا۔وہ کہنے لگی اصل بات یہ ہے کہ پیر منظور محمد صاحب ابھی آئے تھے، انھیں دیکھ کر مجھے اپنا بھائی یاد آگیا کیونکہ میرے بھائی کی شکل ان سے ملتی تھی، اس لئے میں روئی۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگنے جائے اور پھر اسے رونا نہ آئے مگر اس رونے پر اگر غور کیا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ رقت کا موجب خدا تعالیٰ کی خشیت نہیں بلکہ کوئی خاص مصیبت ہوگی جس نے اسے رُلا دیا۔اسی طرح خود غرضی کے ماتحت انسان ترلے بھی کرلیتا ہے اور آنسو بھی بہا لیتا ہے۔مگر اس قسم کے عجز و انکسار - خدا تعالی دھوکے میں نہیں آسکتا۔یہ مت خیال کرو کہ تمہارے آنسو بہانے سے خدا تعالی دھوکا کھا جائے گا۔وہ تمہارے دلوں کو جانتا ہے اور وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرے بندے دوسرے اوقات میں بھی عجز وانکسار دکھاتے ہیں یا نہیں۔اگر دوسرے اوقات میں کوئی شخص خواہ مخواہ چھاتی نکالے پھرتا ہے، خود پسندی اور اکبر اس میں پایا جاتا ہے تو خدا اس کے تھوڑی دیر کے رونے کو کچھ وقعت نہیں دیتا۔وہ سمجھتا ہے کہ اب یہ اپنی ضرورت کیلئے رو رہا ہے ورنہ اس کی طبیعت میں تکبر، ظلم اور خود پسندی بھری ہوئی ہے۔بڑے بڑے جابر عیسائی بادشاہ بھی ضرورت پر گرجوں میں چلے جاتے اور رونے لگ جاتے ہیں۔مگر جو نہی گرجے سے نکلتے ہیں کہتے ہیں کون ہے جو ہمارے سامنے بول سکے۔جب انہیں گرجے میں دیکھا جاتا ہے، جب ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ منکسر المزاج اور کوئی نہیں۔مگر جب گرجے سے باہر دیکھا جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ ظالم رکوئی نہیں۔پس یاد رکھو خداتعالی کو انکسار پسند ہے مگر وہ انکسار نہیں جو تم دعا کے وقت پندرہ بیس منٹ کیلئے اختیار کر لیتے ہو بلکہ وہ انکسار پسند ہے جو تم ۲۴ گھنٹے رکھتے ہو۔اس دائمی انکسار کے ساتھ اگر ایک آنسو بھی تمہاری آنکھ سے گرے گا تو وہ اللہ تعالٰی کے عرش کو ہلا دے گا کیونکہ خدا اپنے بندے کا ایک آنسو بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔لیکن اگر یہ انکسار نہیں تو خواہ تمہارے آنسوؤں سے مصلیٰ تر ہو جائے خدا تعالیٰ کے فرشتے انہیں ایسا ہی نجس سمجھتے اور