خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 195

خطبات محمود ۱۹۵ سال ۱۹۳۴ء تھا۔وہ ہمیشہ جیب میں کتاب رکھتا اور چٹھی دے کر کتاب پڑھنے بیٹھ جاتا۔جب جواب ملتا تو کتاب جیب میں رکھ کر چل پڑتا اور اسی طرح مطالعہ کرتا رہتا۔آخر بڑا سائنسدان بن گیا اور اس نے اتنی ترقی کی کہ تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ یادگار رہے گا۔اس نے ہزار کے قریب ایجادیں کیں۔اور بہت سی ایجادیں اس کی ایجادوں سے آگے کی گئی ہیں۔مگر یہ شخص پہلے آن پڑھ چپڑاسی تھا جو دنیا کا بہت بڑا آدمی بن گیا۔پس ہمارے امراء سیکرٹریان اور بالخصوص جماعت سالکین کا جو میں نے قائم کی ہے فرض ہے کہ ان غلطیوں کو دور کریں جو جماعت کے بعض افراد میں پائی جاتی ہیں۔اگر ہم اپنی جماعت میں سے بددیانتی کو دُور نہیں کر سکتے تو دنیا میں ہمارا زعب قائم نہیں ہو سکتا۔بد دیانتی بے ایمانی پیدا کرتی ہے۔مجھے یاد ہے میں چھوٹا ہی تھا کہ ایک دفعہ امرتسر گیا۔میں نے بازار میں دیکھا کہ ایک سفید ریش مجبه پوش مولوی صاحب جارہے تھے اور پیچھے پیچھے ایک غریب آدمی ان کی منتیں کرتا جاتا تھا۔وہ کبھی کبھی مڑ کر اس کی طرف دیکھتے اور غصہ سے اسے دھتکار دیتے۔میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے۔اس نے بتایا کہ میں مزدور آدمی ہوں ہمارے ہاں بغیر پیسہ کے شادی نہیں ہو سکتی اس لئے شادی کی خاطر میں جو مزدوری کرتا تھا وہ ان کے پاس جمع کرتا جاتا تھا کیونکہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محفوظ جگہ کوئی نہ تھی۔اب جبکہ چار سو کے قریب روپیہ جمع ہو گیا اور میرا شادی کرنے کا ارادہ ہوا تو ان سے روپیہ مانگا مگر یہ صاف مکر گئے اور کہتے ہیں کہ میرے پاس تمہارا کوئی نہیں۔اب غور کرو اس شخص کے دل میں خدا پر کیا ایمان رہ گیا ہوگا۔بد دیانتی ایمانی اور اقتصادی دونوں طرح سے کمزور کرتی ہے۔پس ہماری جماعت میں یہ چیز بالکل نہ ہونی چاہیئے۔اموال اور کام کاج میں پوری دیانتداری ہونی چاہیئے اور معاہدات کی سختی سے پابندی ہونی ضروری ہے۔پس جن دوستوں کے دلوں میں ہمدردی ہے انہیں چاہیے کہ ایسی باتوں کو دیکھتے رہیں کہ پیشہ ور لوگ دیانتداری سے کام کرتے ہیں یا نہیں۔یہ دیانتداری نہیں کہ مالک کی موجودگی میں خوب کام کیا لیکن اس کے جانے کے بعد بیٹھ گئے۔اگر خدا تعالی کو نگران سمجھا جائے تو انسانی نگران کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔پس چاہیئے کہ ایسے لوگ اپنی اصلاح کریں اور جو خود نہیں کر سکتے ان کی دوسرے کریں اور جو عادی مجرم ہوں انہیں سزائیں دی جائیں۔یعنی ان سے کام نہ لیا جائے یا پھر اپنے سے الگ کردیا جائے۔یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص کام میں بددیانتی کرتا ہے، وہ مال کھا جانے والے سے زیادہ خطرناک ہے۔فرض کرو ایک روپیه