خطبات محمود (جلد 15) — Page 191
خطبات محمود 191 سال ۱۹۳۴ء ابھی اس پر تین ماہ نہ گزرے تھے کہ فرش چکنا چور ہو گیا جو ثبوت ہے اس امر کا کہ ان لوگوں نے دیانتداری سے کام نہ کیا تھا۔وہ احمدیت کے جامہ سے غلط رنگ میں فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اور جب انہوں نے میرے ساتھ ایسا کیا تو اوروں کے ساتھ کیا کچھ نہ کرتے ہوں گے اسی طرح ابھی ایک عزیز آئے، انہوں نے ایک قصہ سنایا۔وہ ایک محکمہ کے انچارج ہیں۔ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ احمدیوں کی بے جا طرفداری کرتے ہیں۔حکومت نے اس الزام کی تحقیقات کرائی اور انہیں اس سے بری پایا۔ادھر گورنمنٹ کی نظروں میں تو ان کا یہ حال ہوا کہ اعلیٰ کام تک ان کی شکایت پہنچی اور تحقیقات ہوئی اور دوسری طرف ایک احمدی جو ان کے وہاں جانے سے قبل موجود تھا اس کے متعلق انہوں نے سنایا کہ مجھے اس پر اسقدر اعتماد تھا کہ نماز کی امامت بھی اس کے سپرد کر رکھی تھی۔ایک دن ایک ماتحت افسر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر کوئی شخص ممنوعہ اشیاء یہاں لاکر فروخت کر کے کثیر منافع حاصل کرتا ہو تو اسے گرفتار کرنا چاہیے یا نہیں؟ میں نے کہا کہ ضرور مجرم کو پکڑنا چاہیے لیکن اس امر پر حیران ضرور ہوا کہ اس سوال کی کیا ضرورت تھی یہ تو عام قانون کی بات ہے۔کچھ عرصہ کے بعد وہی افسر آیا اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔میں اس کے ساتھ ہولیا۔تھوڑی دور جانے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہی احمدی اپنی ڈیوٹی کی جگہ سے کوئی سو گز پرے کھڑا ہے۔میں حیران تو ہوا مگر خیال کیا کہ شاید کوئی ضروری کام ہو گا لیکن یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہی وہ مجرم ہے جسے گرفتار کیا جائے گا۔وہ افسر جب اس کے قریب پہنچا تو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا، ٹھر جاؤ اور اس کی تلاشی کا حکم دیا۔اس کے کپڑوں سے تو کوئی چیز برآمد نہ ہوئی لیکن ، پگڑی اُتار کر دیکھی گئی تو اس میں سے تمباکو برآمد ہوا جسے اس علاقہ میں لانے کی ممانعت تھی۔وہ کہتے ہیں یہ دیکھ کر میرے تو پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور قریب تھا کہ مجھے غش آجاتا۔ایک اور احمدی افسر بھی اُس وقت موجود تھا جس نے اپنے احمدی ہونے سے بھی پہلے اس شخص کو ملازم رکھا تھا۔یہ بات دیکھ کر اس کا رنگ زرد ہو گیا اگر وہ دیوار کا سہارا نہ لیتا تو کوئی صاحب اس سے اس مکان کا گمان نہ کریں جو دار الانوار میں میں نے بنوایا ہے۔یہ مکان قاضی عبد الرحیم صاحب نے تیار کروایا ہے اور اس محنت اور اخلاص سے تیار کروایا ہے کہ آنوں میں روپوں کا کام کروادیا ہے اور ایسا اعلیٰ ہے کہ ہمیشہ اسے دیکھ کر قاضی صاحب کیلئے دعا نکلتی ہے۔