خطبات محمود (جلد 15) — Page 189
خطبات محمود ۱۸۹ ۲۲ ایمان کے ساتھ اعمال کی اصلاح بھی ضروری ہے (فرموده ۲۹ - جون ۱۹۳۴ء) سال ۱۹۳۴ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے کئی دفعہ جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ صرف ایمان لے آنا کافی نہیں بلکہ ایمان کے موافق اعمال کو ڈھالنا بھی ضروری ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی مثال باغ کی سی ہے۔انسانی اعمال اس کو سینچنے اور تروتازہ رکھنے کا موجب ہوتے ہیں۔اگر درخت کو وقت پر پانی نہیں پہنچے گا تو خواہ وہ کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو، خشک اور برباد ہو جائے گا۔پس جب تک اعمال صحیحہ ساتھ نہ ہوں، ایمان سرسبز نہیں ہوتا۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں ایسا ہے جس نے اب تک اس طرف توجہ نہیں کی۔اور شاید وہ اس حقیقت کو سمجھتا ہی نہیں یا شاید یہ وجہ ہو کہ بعض دفعہ انسان خود دھوکا میں آجاتا ہے۔وہ غلط اصول بناتا ہے اور ان کی روشنی میں تو کیا کہہ سکتے ہیں، ان کی ظلمت اور تاریکی میں کہیں کا کہیں بھٹکتا ہوا چلا جاتا ہے۔اس کی مثال بالکل اس مکڑی کی سی ہوتی ہے جو اپنے گرد تانا تنتی ہے اور جال بناتی ہے۔پھر وہی جال اس کی موت کا موجب ہو جاتا ہے اور اسی گھر میں وہ دم گھٹ کر ایک حصہ مرجاتی ہے۔چند ایک اصول ایسے ہیں جن کو ہماری جماعت دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے اور وہ قرآن کریم کے پیش کردہ اصول ہیں ان کا غلط مفہوم شاید بعض کی ٹھوکر کا موجب ہو۔مثلاً ہم پیش کرتے ہیں کہ آپس میں ہمارا معالمہ برادرانہ اور بھائیوں والا ہے اور یہ کہ دنیا کی زینت