خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 186

خطبات محمود ١٨٦ سال ۱۹۳۴ء دعائیں کروگے تو اللہ تعالیٰ ان ابتلاؤں کو دور کر دے گا۔ ابتلاؤں کا آنا ایمان کی علامت ہوتی ہے اور ان کی وجہ سے انسان بہت سی ترقیات حاصل کر لیتا ہے۔ مگر پھر بھی چونکہ ابتلاؤں کی برداشت مشکل ہوتی ہے اس لئے یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ ابتلاء آنے پر انسان خوش ہو بلکہ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور اسی کے حضور گڑ گڑائے اور کہے کہ خدایا مجھ میں ابتلاؤں کے برداشت کی طاقت نہیں تو اپنے فضل سے انہیں دور فرمادے۔ اور گو ہمارا فرض ہے کہ ہم بہادری دکھائیں اور ابتلاؤں کے آنے پر صبر کریں۔ اور اگر صبر کا دامن کسی وقت ہاتھ سے چھوٹ وٹ جائے تو ہم سچائی سے کام لیں۔ مگر ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اگر یہ تیری طرف سے ہے تو ہم کمزور بندے ہیں، ہم پر رحم فرما اور اگر یہ ابتلاء ہمارے گناہوں کی وجہ ں کی وجہ سے ہیں تو ہمارے گناہ بخش دے۔ یہ آپ لوگوں کا کام ہے جبتک آپ اس پر عمل نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ نہیں ہو سکتے اور اگر آپ اس پر عمل کریں گے تو پھر آپ کو کسی سے خوف نہیں ہو سکتا نہ حکومتوں سے نہ رعایا ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عام مومن دو مخالفوں پر بھاری ہوتا ہے۔ اور اگر اس سے ترقی کرے تو ایک مومن دس پر بھاری ہوتا ہے۔ اور اگر اس سے بھی ترقی کرے۔ تو صحابہ " کے طرز عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک ایک نے ہزار کا مقابلہ کیا ہے۔ ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں چھپن ہزار ہے گو یہ بالکل غلط ہے اور صرف اسی ضلع گورداسپور میں تمہیں ہزار احمدی ہیں مگر فرض کرلو کہ یہ تعداد درست ہے اور فرض کرلو کہ باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے میں ہزار افراد رہتے ہیں تب بھی یہ پچھتر چھہتر ہزار آدمی بن جاتے ہیں اور اگر ایک احمدی سو کے مقابلہ میں بھی رکھا جائے تو ہم پچھتر لاکھ کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر ایک ہزار کے مقابل پر ہمارا ایک آدمی ہو تو ہم ساڑھے سات کروڑ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اتنی ہی تعداد دنیا کے تمام مسلمانوں کی ہے۔ پس سارے مسلمان مل کر بھی جسمانی طور پر ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ان پر بھاری ہیں۔ پھر آج کل تو جسمانی مقابلہ ہے ہی نہیں اس لئے اس لحاظ سے بھی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ گورنمنٹ کے بعض افسران کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں مگر میرا تجربہ یہی ہے کہ گورنمنٹ کے افسروں میں سے اکثریت شرفاء کی ہے اور ان سے جب بھی اس قسم کی فتنہ انگیزیوں کا ذکر کیا جائے، وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم ان سے