خطبات محمود (جلد 15) — Page 13
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ہے اور اگر عبادات میں زیادتی ہوتی چلی جائے تو انسان خدا تعالی کی حفاظت میں پہلے سے زیادہ آجاتا ہے اور اس طرح ترقی کرتے کرتے دائمی جنت کا وارث ہو جاتا ہے۔اس دائمی راحت کے مقابلہ میں لہو و لعب کی وقتی راحت کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔یہی گر ہے جو اسلام نے اجتماعات کے موقع پر ہماری روحانی ترقی اور دائمی راحت کیلئے بتایا۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری عبادات میں زیادتی ہو۔آج کا غیر معمولی اجتماع خواہ کسی غلط یا صحیح روایت کی بناء پر ہو یا کسی بزرگ کے قول پر اس کی بنیاد ہو ہم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور آخری جمعہ کے لحاظ سے رمضان کے متعلق ہدایات بھی دے سکتے ہیں۔گو رمضان کا بیشتر حصہ اس جمعہ کے آنے سے پہلے گزر جاتا ہے مگر بسا اوقات ان آخری دنوں میں وہ رات آجاتی ہے جس کو رسول کریم ﷺ نے ایک رؤیا اور بشارت کی بناء پر خاص طور پر اہمیت دی ہے۔وہ بشارت یہ ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں خصوصاً طاق راتوں میں ایک رات ایسی آتی ہے جس میں خصوصیت سے اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس رات بندہ جو کچھ صدق نیت اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ سے مانگے گا وہ اسے دیا جائے گا اے۔اس کا نام مسلمانوں میں لیلۃ القدر مشہور ہے۔یہ لیلۃ القدر کب آتی ہے، یہ کیونکہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالی نے اُس سال کی لیلۃ القدر کا علم دیا تھا مگر آپ جب باہر لوگوں کو بتانے کیلئے تشریف لائے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں ان کی لڑائی ور سختی کو دیکھ کر آپ کو ملال ہوا اور اس قدر تکلیف پہنچی کہ شدت غم سے آپ کو اس رات کی تاریخ بھول گئی اور آپ نے فرمایا میں لیلۃ القدر بتانے کیلئے آیا تھا مگر تمہاری لڑائی کو دیکھ کر میرے ذہن سے وہ تاریخ نکل گئی۔اب میں بتاتا ہوں کہ لیلۃ القدر آخری عشرہ میں تلاش کرو اور خصوصیت سے اس کی طاق راتوں میں جاگو کیونکہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں کوئی رات لیلۃ القدر ہوتی ہے ہے۔روحانی علماء جو اس امت میں گزرے ہیں، ان کا تجربہ ہے کہ لیلۃ القدر کی تاریخیں بدلتی رہتی ہیں۔۲۱ ۲۳ ۲۵ ۲۹٬۲۷ ایسی تاریخیں ہیں جن میں اکثر لیلۃ القدر ہوتی ہے۔یعنی کبھی ۲۱ تاریخ کو لیلۃ القدر ہوگی کبھی ۲۳ کو کبھی ۲۵ کبھی ۲۷ اور ۲۹ کو۔اور بعض روحانی علماء نے اس بات کا بھی تجربہ کیا ہے کہ کبھی لیلۃ القدر آخری عشرہ سے بھی پہلے آجاتی ہے مگر کثرت سے بلکہ اتنی کثرت سے کہ کہا جاسکتا ہے کہ 99 فیصدی نہیں