خطبات محمود (جلد 15) — Page 182
خطبات محمود ۱۸۲ سال ۱۹۳۴ء ہو سکتے بلکہ وہ بھی اپنے دائرہ میں خاص اہمیت اور غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے انبیاء کی جماعتیں غیر معمولی نہیں ہوتیں رسول کریم اس کے وقت میں جو لوگ پیدا ہوئے اور آپ پر ایمان لائے، قربانیاں انہوں نے بھی کیں اور بعد میں آنے والوں نے بھی کیں۔ بنی نوع انسان کی خدمت انہوں نے بھی کی اور دوسروں نے بھی کی لیکن کیا وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں آپ پر ایمان لانے والا ادنیٰ سے ادنی آدمی بھی بعد میں آنے والوں پر ایک رنگ کی فضیلت رکھتا ہے۔ امت محمدیہ میں رسول کریم اس کے بعد سینکڑوں اولیاء ایسے گزرے ہیں جو کئی صحابہ" سے درجہ میں بلند تھے۔ مگر باوجود اس کے جب ان کے سامنے کسی صحابی کا نام آتا تو ان کے دلوں پر غیر معمولی کیفیت طاری ہو جاتی ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے، ان کے چہروں کی حالت بدل جاتی اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ کسی بڑے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس کی کیا وجہ تھی کہ سید عبدالقادر جیلانی ، شهاب الدین صاحب سہروردی اور معین الدین چشتی" جیسے آدمی جنہوں نے دنیا کی ہدایت کیلئے بہت بڑے بڑے کام کئے ایک معمولی صحابی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو گرا دیتے اور اپنے درجہ کو متنزل کر دیتے اسی وجہ سے کہ رسول کریم ال کے صحابہ " غیر معمولی حالات میں پیدا ہوئے اور غیر معمولی طور پر اللہ تعالی نے انہیں ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔ アン پس انبیاء کی جماعتیں غیر معمولی حالات میں گذرا کرتی ہیں اس لئے ہماری جماعت کو بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ گو عام قاعدہ یہی ہے کہ جب انسان کوئی اشتعال انگیز بات سنے تو اسے غصہ آجائے، عام قاعدہ یہی ہے کہ ایسے حالات میں بعض دفعہ خون خرابہ بھی ہو جائے مگر یہاں عام قاعدے کا سوال نہیں، دنیاوی گور نمنٹیں بھی ان حالات میں جب کسی قوم کے بزرگ اور پیشوا کو گالیاں دی جاتی ہوں اور لوگ صبر سے کام نہ لیتے ہوئے کسی کو قتل کردیں، تو یہ ثابت ہو جانے پر کہ دوسرے فریق کی طرف سے اشتعال دلایا گیا چھوڑ دیتی ہیں مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارے حالات غیر معمولی ہیں اور ہم نے صرف یہ نہیں دیکھنا کہ ہمارے کسی فعل کا ہم پر یا دوسروں پر کیا اثر پڑتا ہے بلکہ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے اعمال کا اثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سلسلہ اور آپ کی عزت و حرمت پر کیا پڑے گا۔ اگر اپنی ہی عزت کا سوال ہوتا اور اپنے ہی نام تک تمام اثر پہنچنے کا یقین ہوتا تو میں سمجھتا ہوں جن حالات میں سے ہمیں گزارا جا رہا ہے ان کے ماتحت میں کبھی یہ نہ کہتا کہ خاموش رہو بلکہ میں