خطبات محمود (جلد 15) — Page 181
خطبات محمود سال نکل چکی تھی اور وہ اخلاق فاضلہ ہیں۔لوگ ایک چیز کو بھول گئے تھے، ان کے ذہنوں سے ایک بات اُتر گئی تھی اور وہ خدا تعالی پر توکل اور یقین ہے۔یہ چیزیں دنیا کیلئے ضروری تھیں، اتنا ہی دنیا نے انہیں پس پشت ڈال دیا اور انہیں فراموش کر رکھا تھا تب خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس لئے مبعوث فرمایا کہ اس کھوئی ہوئی متاع کو اور اس فراموش شدہ چیز کو دنیا میں پھر واپس لائیں چنانچہ آپ نے مبعوث ہو کر دنیا میں پھر خدا پر یقین اور توکل قائم کیا۔پھر اخلاق فاضلہ کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی۔پھر قربانی اور ایثار جن کے بغیر اخلاق فاضلہ کا حصول ناممکن ہے، اس کی اہمیت لوگوں پر ظاہر کی۔دنیا کا عام دستور ایسے حالات میں یہ ہے کہ لوگ انبیاء کو بُرا بھلا کہتے اور ان کی تکذیب کرتے ہیں، ان سے لڑائی جھگڑا کرتے، لڑتے دکھ دیتے اور ہتک کے تمام ذرائع اپنے استعمال میں لاتے ہمیں خدا تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر یقین اور ایمان نصیب کیا۔جبکہ عام حالات یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں کو دُکھ دیا جاتا اور ان کی تکذیب و تکفیر کی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ نے عام حالات کے خلاف ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم خدا کے فرستادہ پر ایمان لائے آپ کو مانا اور آپ کے اوامر پر کاربند ہونے کیلئے اپنے آپ کو پیش کردیا، پھر جو صداقت آئی وہ بھی غیر معمولی طریق سے آئی ہے کیونکہ انبیاء کی بعثت معمولی طریق پر نہیں ہوتی۔معمولی طریق تو یہ ہے کہ انسان غور کرتا فکر کرتا اور صداقت کی جستجو کر کے آخر اسے پالیتا ہے مگر الہام ہونا اور ایک نبی کا دنیا کی اصلاح کیلئے مبعوث کیا جانا ہدایت کا غیر معمولی طریق ہے جو غیر معمولی حالات کے پیدا ہونے پر کام میں لایا جاتا ہے۔اسی طرح نبیوں کی شناخت بھی ایک غیر معمولی امر ہوتا ہے ورنہ عام حالات تو یہی ہوتے ہیں کہ ان کی تکذیب و تکفیر کی جاتی ہیں ہے۔پس وہ پیغام الہی جو آج دنیا کیلئے آیا غیر معمولی ہے۔اور ہمارا اس پیغام کو سن کر اسے تسلیم کرلینا اور اس پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو جانا بھی غیر معمولی ہے اس لئے ہم پر دوسرے لوگوں کا قیاس کیونکر ہو سکتا ہے اور کیونکر کہا جاسکتا ہے جب ان حالات میں دوسرے لوگ اس قسم کے افعال پر اُتر آتے ہیں تو ہمیں بھی فلاں قسم کے افعال کرنے چاہئیں۔جب خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے غیر معمولی قدرتیں ظاہر کی ہیں اور ہمیں غیر معمولی طور پر ایک نبی پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی ہے تو ہمارے باقی اعمال بھی معمولی آدمیوں کی طرح نہیں