خطبات محمود (جلد 15) — Page 10
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ تو جواب دے رہا تھا جو آب ہٹ گیا ہے ہے۔ہاں جب خدا کا حکم ہو تو تلوار بھی ضروری ہوتی ہے جیسے محمد رسول اللہ اللہ کے وقت میں ہوا۔اور اُس وقت فرشتے بھی ویسی ہی تلوار چلاتے ہیں اور جب فرشتے ساتھ ہوں تو کسی کا کیا ڈر ہو سکتا ہے خواہ کوئی کتنا جابر بادشاہ اور زبر دست حکومت ہی کیوں نہ ہو۔جابر سے جابر بادشاہ کی بھی کیا ہستی ہے۔رات کو قولنج کا درد کو ہو تو صبح جنازہ نکلا ہو گا۔جو انسان اپنے کو خدا کے ہاتھ میں سونپ دے اسے کسی کا کیا ڈر ہو سکتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں پولیس کا افسر خلاف ہے۔حالانکہ کوئی افسر ہے جو ایک گھنٹہ تک زندہ رہنے کی بھی گارنٹی کر سکے۔اگر تم خدا کے ہاتھ میں چلے جاؤ تو جو تم پر ظلم کرے گا اللہ تعالٰی اس کے افسروں کو اس سے ناراض کردے گا یا اسے مار دے گا یا پھر اس کی اصلاح کردے گا۔اگر ہم اپنے اندر نیکی اور تقویٰ پیدا کریں ، عادل بنیں، ظالم بننے کی بجائے مظلوم بنیں تو خدا تعالیٰ کی نصرت ہمارے لئے ہوگی۔جب ہم سو رہے ہوں گے فرشتے ہمارے لئے لڑیں گے۔ہم اگر لڑیں تو بھی بارہ گھنٹے لڑ سکتے ہیں۔مگر جب خدا کے ہاتھ میں اپنے کو سونپ دیں تو فرشتے ہماری طرف سے ہماری غفلت کے وقت بھی لڑیں گے۔اور اگر خدا کا یہی منشاء ہوا کہ ہم مارے جائیں تو مارے جاؤ۔خصوصاً قادیان کے لوگوں کو اس طرف دھیان دینا چاہیئے اور یہاں کے درس دینے والوں اماموں، پریذیڈنٹ اور دوسرے لوکل عہدیداروں، محکموں کے افسروں اور ناظروں کا فرض ہے کہ جب بھی موقع ملے دوستوں کو یہ سمجھاتے رہیں کہ تمہارا فرض یہی ہے کہ روحانی طور پر قلوب کو فتح کرو۔پھر قادیان کیا ساری دنیا میں بھی تمہیں کوئی غیر احمدی نظر نہیں آئے گا۔اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ اس پر عمل کرسکیں اور اپنے جوش میں غلطی کر کے سلسلہ کی بدنامی اور اس کی ترقیات میں روک کا تعلیمی موجب نہ ہوں۔الفضل 11 جنوری ۱۹۳۴ء) له تذكرة الشهادتين صفحه ۶۷ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۷ ه الحديد: ٢٦ کے مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۴۳۶ دار الفکر بیروت