خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 150

خطبات محمود ۱۵۰ ۱۸ تقویٰ اللہ اختیار کرنے کے بہترین نتائج (فرموده ۲۵- مئی ۱۹۳۴ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- مذہب کی غرض و غایت انسانی دل اور انسانی دماغ انسانی جذبات اور انسانی افکار میں وہ مادہ پیدا کرنا ہوتا ہے جسے عربی زبان میں تقویٰ کہا جاتا ہے۔یعنی اللہ تعالی کے ساتھ ایسا تعلق ایسی محبت ایسا عشق اور ایسا لگاؤ پیدا ہو جائے اور اُس پر اتنا اعتماد اتنا تو کل اور اتنا یقین حاصل ہو کہ جس کے بعد خدا تعالیٰ کیلئے انسان اس کی توحید اور تفرید کی طرح ہو جائے۔اس انسان پر حملہ خدا تعالیٰ کی توحید اور تفرید پر حملہ سمجھا جائے اور اُس انسان کی مخالفت خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی تفرید کی مخالفت سمجھی جائے، اسی طرح اُس انسان کا نقصان و زیاں خدا تعالی کی توحید و تفرید کا نقصان و زیاں قرار پائے حتی کہ اس کی اعانت کے تمام سامانوں کے موقع پر خدا درمیان میں آجائے اور اس کی اعانت کے تمام موقعوں پر خدا اس کا مددگار ہو جائے۔یہی صحیح مفہوم ہے تقویٰ کا اور اسی تقویٰ کے پیدا کرنے کیلئے مذاہب ہوتے ہیں۔مگر جو تقویٰ کی تعریف میں نے اس وقت کی ہے، وہ اس کے انتہائی مقام کی ہے اور ہر چیز اپنی انتہائی صورت میں ہر موقع پر نہیں پائی جاتی اور نہ ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔جیسا کہ تمام قوتیں اور طاقتیں جو انسانوں میں پائی جاتی ہیں، وہ اپنے انتہائی رنگ میں ہر انسان میں نہیں پائی جاتیں، نہ محبت اپنے انتہائی مقام کے لحاظ سے ہر فرد میں پائی جاتی ہے، نہ غضب اپنے انتہائی مقام کے لحاظ سے ہر فرد میں پایا جاتا ہے، ہر انسان میں محبت بھی ہوتی ہے اور غضب