خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 143

خطبات محمود العلم : سال ۱۹۳۴ء صورت میں میں اس کے متعلق یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ یہ میری منشاء کے خلاف ہے۔ فیض باغ میں احمدی ہیں اور ان کے گھروں پر تبلیغ شروع کی گئی ہے حالانکہ میں نے جو تجویز منظور کی تھی اس میں یہ تھا کہ دوسروں کے گھروں میں انتظام کیا جائے جن کی ہمدردی دوستانہ کے رنگ میں حاصل کی جائے۔ اور اگر یہ کوئی علیحدہ تجویز ہے تو اگرچہ تبلیغ کیلئے جتنی بھی نئی راہیں نکالی جائیں اچھا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ جو سکیم میرے سامنے پیش کر کے منظور کرائی گئی تھی، اسے بالکل نظر انداز کرکے اور اس کے کسی بھی حصہ پر عمل کئے بغیر اسے ترک کرکے ایک نئی راہ اختیار کرلینے کے کیا معنی ہیں؟ کامیابی ہمیشہ مجوزہ طریق پر کام کرنے اور اسے منتظم سرانجام دینے سے ہوتی ہے۔ یہ بے ضابطگی ہے کہ مجوزہ سکیم کو بالکل ترک کرکے نئے رنگ میں کام شروع کر دیا جائے۔ مگر قطع نظر اس سے کہ دوستوں نے اس کو پسند کیا اور اس پر عمل شروع کرنا مناسب سمجھا اور تبلیغ جس رنگ میں بھی ہو اچھی ہے۔ میں ایک افسوسناک رپورٹ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ سیکرٹری تبلیغ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جن دوستوں نے مدد کا ہ کیا تھا وہ پورے طور پر جمع بھی نہیں ہوتے رہے اور ارد اردگر گرد علاقہ سے تو کیا پاس پاس گھروں والے احمدی احباب بھی شامل نہیں ہوئے اور جن کے ذمہ یہ لگایا گیا تھا کہ غیر احمدیوں کو ساتھ لائیں، وہ بجائے کسی نظام کے ماتحت ان کو لانے کے یونہی آوازیں دے دیتے تھے کہ تقریر شروع ہوتی ہے ، لوگ آکر سنیں حالانکہ اس طرح آنے والوں کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ کون شریف ہے اور کون شرارتی کے سنانا مفید ہو سکتا ہے اور کسے نہیں اور یہ دونوں رنجدہ امور ہیں۔ کہ اول تو ان دوستوں نے ابتداء میں ہی کوئی دلچسپی نہیں لی اور جلسہ میں آکر شامل نہیں ہوتے رہے جن کی امداد کام کو وسعت دینے کیلئے ضروری تھی اور دوسرے یہ کہ جس طریق پر لوگوں کو لانا چاہیے تھا نہیں لائے۔ وعده لاہور کے دوسرے احمدیوں پر کوئی الزام نہیں جس صورت میں کہ ہمسایہ میں رہنے والے دوست بھی نہیں آتے رہے یا قلیل تعداد میں آئے اور یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ میرے تین خطبات کے بعد جو میں نے لاہور میں پڑھے ہیں اور اس جلسہ کے بعد جو میری موجودگی میں کیا گیا دوستوں میں بیداری پیدا ہو چکی ہوگی اور وہ تندہی سے کام کرنے لگ گئے ہوں گے مگر سیکرٹری تبلیغ کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ میرا اندازہ صحیح نہ تھا۔ بعض دفعہ پرجوش انسان مایوسی کا پہلو بھی لے لیتا ہے اس لئے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ