خطبات محمود (جلد 15) — Page 136
خطبات محمود ۱۶ استقلال، ہمت اور قربانی کی روح پیدا کرنے کی ضرورت فرموده ۲۷- اپریل ۱۹۳۴ء بمقام لاہور) سال ۶۱۹۳۴ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے پچھلے جمعہ، جماعت کو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی تھی اور جو ہدایتیں میں نے دی تھیں ان کے مطابق کام کرنے کیلئے قاضی محمد اسلم صاحب جو یہاں کی جماعت احمدیہ کے مقامی امیر ہیں انہوں نے جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے، جماعت کے کئی اجلاس کئے ہیں اور ایک اجلاس اس نظام کے متعلق مجھ سے مشورہ کرنے کیلئے میری موجودگی میں بھی کیا گیا جو تجاویز تبلیغ کیلئے کی گئی ہیں وہ اپنی ذات میں میں سمجھتا ہوں اتنی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں اور اتنے مفید نتائج پیدا کرنے والی بن سکتی ہیں کہ چند مہینوں میں ہی خدا تعالی کے فضل سے تبلیغ کے عمدہ پھل جماعت حاص حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن، اور یہ لیکن ایک بہت بڑا لیکن ہے، تجاویز کچھ کام نہیں کیا کرتیں بلکہ در حقیقت وہ روح کام کیا کرتی ہے جو کام کرنے والوں کے اندر موجزن ہوتی ہے۔ مجھے ان تجاویز کے متعلق اور ان کے خوشگوار نتائج کا خیال کرتے ہوئے وہ لطیفہ یاد آجاتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان لوگوں کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے جو کام کرنے کا ارادہ تو کرتے ہیں مگر عملی رنگ میں کام کرکے دکھاتے نہیں۔ آپ فرمایا کرتے کوئی امیر تھا جو بہت ہی سُست اور غافل تھا۔ قدرتی طور پر اس کے نوکر بھی اسی سے اثر قبول کرتے اور وہ بھی اپنے کاموں میں سہل انگاری دکھاتے۔ عام طور پر آس پاس رہنے والے کتے بلیاں اپنے پیٹ اس امیر کے باورچی خانہ سے بھرتے تھے۔ ایک دفعہ اُس نے اخراجات کی زیادتی