خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 122

خطبات محمود ۱۲۲ سال ۱۹۳۴ء کیوں آرہا ہے۔یعنی وفات تو ہمارے خدا کی ثابت کر رہا ہے اور ناراض مسلمان ہوتے ہیں۔غرض نکاحوں کا سوال ایک اہم سوال ہوتا ہے اور لوگوں کیلئے اس قسم کے فتویٰ کے بعد جلسوں میں شامل ہونا مشکل ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر عورتیں کمزور ہوتی ہیں اور وہ خیال کرلیتی ہیں کہ اگر ہمارے مرد فتوی کی زد میں آگئے تو اس کے بعد ہمارا اپنے گھر میں رہنا بدکاری سمجھا جائے گا مگر اس قسم کے فتووں کے باوجود کثرت سے لوگ آئے جو علامت ہے اس بات کی کہ جو فتنہ اور شورش ہمارے خلاف پیدا کی جارہی ہے، وہ گو بعض لحاظ سے ہمارے لئے مضر ہو مگر تبلیغی دروازہ خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے بند نہیں ہونے دیا۔میں نے بھی دیکھا کہ اس موقع پر ہماری جماعت کو مختلف جماعتوں کی طرف سے مدد ملی۔جہاں غیر احمدی شرفاء نے تعاون کیا، وہاں بعض ذمہ دار افسروں کا رویہ بھی بہت ہمدردانہ رہا۔سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس جو ہندوستانی مسلمان ہیں، ان کا رویہ نہایت ہی قابل تعریف تھا۔وہ ٹی پارٹی کے موقع پر مجھے بھی ملے۔ان کا طریق عمل ایسا اعلیٰ تھا جس میں قطعا تعصب کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا تھا۔مگر شاید افسروں کے متعلق کوئی کہے کہ دیانتدار افسر انصاف کیلئے کوشش کیا ہی کرتے ہیں اس لئے میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ دوسرے لوگوں میں بھی ہمدردی اور تعاون کا پہلو نمایاں طور پر پایا جاتا تھا۔بعض میونسپل کمیٹی کے افسروں نے کوشش کر کے ہمارے لئے مفت چیزیں مہیا کیں۔چنانچہ میز اور کرسیوں کے گڑے بھروا کر مفت ہمارے جلسہ گاہ میں بھیج دیئے۔اسی طرح ایک سکھ صاحب کے سائبان تھے ، انہوں نے نصف کرایہ لیا حالانکہ ان کو یہ دھمکی دی گئی تھی کہ ہم سائبانوں کو جلا دیں گے۔وہ سامان ۱۹۱۵ ہزار کی مالیت کا تھا اور ایک تاجر کیلئے اس سے زیادہ خطرہ کی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ سامان کے تلف کر دینے کی اسے دھمکی دی جائے مگر باوجود اس کے اس نے نصف کرایہ وصول کیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے فضل سے شریف طبقہ ہمارے متعلق اپنے دلوں میں ہمدردی کے جذبات موجزن پاتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ جاہلوں کی مخالفت ذاتی اغراض کی بناء پر ہے حقیقتاً ، سلسلہ ملک و ملت کا خادم ہے۔لیکن جہاں اس نتیجہ کے نکالنے سے ہمیں خوشی ہوتی ہے وہاں ا بہت بڑی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے۔مالا بار کے متعلق میں نے دیکھا وہاں کے شہر کالی کٹ میں ایک احمدی کو قبرستان میں دفن ہونے سے مسلمانوں نے روک دیا۔گورنمنٹ کے افسروں بلکہ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بھی لوگوں کی مخالفت سے متاثر ہو کر