خطبات محمود (جلد 15) — Page 123
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء رپورٹ کر کے ڈپٹی کمشنر سے اجازت لے لی کہ احمدیوں کو میونسپل قبرستان میں لاش دفن نہیں کرنی چاہیے مگر ہندوؤں نے نہایت جوش سے اس تحریک کا مقابلہ کیا اور میونسپل کمیٹی سے فیصلہ کرایا کہ احمدیوں کو اس قبرستان میں دفن ہونے کا حق حاصل ہے۔اس موقع پر اگرچہ بعض مسلمان واک آؤٹ بھی کر گئے مگر ہندوؤں نے کہا یہ ظلم ہم سے برداشت نہیں ہو سکتا کہ میونسپل کمیٹی کا قبرستان ہو جو تمام مسلمانوں کے لئے کھلا ہو مگر احمدیوں کو اس میں دفن ہونے سے روکا جائے۔اسی طرح یہاں بھی میں نے دیکھا ہے کہ ہندو اور سکھ صاحبان میں سے بہت سے شریف لوگ مجھے نظر آئے اور وہ ایسے ہمدردانہ رویہ سے پیش آئے کہ طبیعت انہیں دیکھ کر وش ہو گئی۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے غیر مذاہب کے شرفاء کے اس احسن طریق عمل کو دیکھ کر ہماری ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں اسلامی مفاد کیلئے ہمارا مسلمانوں کے ساتھ سیاسی طور پر اتحاد کلی ہے، وہاں ہمارا جوش اس حد تک نہیں بڑھ جانا چاہیے کہ ہم دوسری قوموں کے شریف لوگوں کی خدمات کو بھول جائیں۔میرا بیسیوں مرتبہ کا تجربہ ہے اور اس دفعہ بھی میں نے دیکھا کہ ایسے مواقع پر جبکہ شریر اپنی شرارت پر آمادہ ہوتے ہیں جس طرح مسلمانوں میں سے شریف لوگ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں اسی طرح ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں میں سے بھی بہت سے شریف لوگ ہمارے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے اور جہلاء کی مخالفت کو ناپسندیدگی اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پس جبکہ غیر مذاہب کے لوگ حسنِ سلوک اور شرافت میں اس درجہ پہنچے ہوئے ہوں تو ہمیں ان سے بہت زیادہ وسیع الحوصلہ ہونا چاہیے اور بہت زیادہ ان سے تعاون اور ہمدردی کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔ہندو مسلم سوال نظرانداز کر کے اگر ہم ان سے اعلیٰ سلوک نہیں کریں گے تو اس سے زیادہ افسوسناک بات اور کوئی نہیں ہوگی اور اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم ہارے اور وہ جیتے۔کیونکہ ہارتا وہی ہے جو بداخلاقی دکھاتا ہے اور جیتتا وہی ہے جو حسن سلوک سے پیش آتا ہے۔پس میری طبیعت نے اس دفعہ کے سفر لائل پور سے یہ اثر قبول کیا کہ گو ہمیشہ ہی میں یہ کہتا رہتا ہوں کہ ہمیں صلح اور محبت سے رہنا چاہیے اور ہمیں قومیت کے جذبات کو زیادہ اُبھارنا نہیں چاہیئے مگر اس دفعہ خصوصیت سے توجہ دلاؤں اور اپنی جماعت کو بتاؤں کہ ہر قوم میں شریف لوگ موجود ہیں جو لوگوں کی مخالفت بلکہ اپنی قوم کی مخالفت کے باوجود بھی ہم سے ہمدردی۔