خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 120

خطبات محمود ۱۲۰ سال ۱۹۳۴ء زیادہ نمایاں تغیر پیدا کر سکیں گی اور کس جگہ کی جماعتیں اللہ تعالی کے فضل سے ترقی کریں گی۔ ضمنی طور پر میں یہ کہہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ضلع وار وار بیعت کے لحاظ سے ضلع شیخوپورہ کے بیعت کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ اس کے بعد لائل پور اور پھر سرگودھا وغیرہ اضلاع کے لوگوں نے بیعت کی۔ ایک شخص نے جو سرگودھا کے ضلع کے تھے اور لائل پور میں کسی ای اے سی کے لڑکوں کو پڑھاتے تھے، جب انہوں نے بیعت کی تو میں نے ان سے پوچھا آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں ضلع سرگودہا کا ہوں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو سلسلہ احمدیہ کی طرف کس طرح توجہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں لائلپور میں نوکر تھا یا کہا کہ میں نوکر ہوں اسی دوران میں مجھے ایک اشتہار ملا جو یہاں کی کسی مسجد کے امام کی طرف سے شائع ہوا تھا۔ اس میں جماعت احمدیہ کے خلاف بہت سی باتیں لکھی تھیں وہ کہنے لگے مجھے اشتہار پڑھ کر سخت غصہ آیا کہ ایک طرف تو یہ احمدی اپنی نیکی اور اسلام سے ہمدردی کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف اسلام کی اتنی ہتک کرتے ہیں کہ امامت اور نبوت کے مدعی بنتے ہیں کہتے ہیں میں اسی غصہ کے جوش میں ایک احمدی کے ہاں گیا اور اسے کہا کہ آپ لوگ اندر سے اور ہیں اور باہر سے اور منہ سے تو اسلامی ہمدردی کے دعوے کرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ آپ کے مرزا صاحب مستقل نبوت کے مدعی ہیں۔ انہوں نے بڑی نرمی سے کہا ذرا بیٹھ جائیے۔ اور پھر ایک ایک اعتراض لے کر انہوں نے مجھے حوالے کتابوں سے دکھانے شروع کئے۔ جو بھی وہ حوالہ نکالیں اصل عبارت میں کچھ اور ہوتا اور اشتہار میں کچھ اور۔ اس طرح دو دن وہ مجھے سمجھاتے رہے۔ جب میں اچھی طرح سمجھ گیا تو پھر مجھے اس مولوی صاحب پر غصہ آیا جس نے اشتہار شائع کیا تھا۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے کہا کہ آپ لوگ ہمارے عجیب راہنما ہیں۔ اشتہار میں یہ لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب فلاں فلاں عقیدہ رکھتے تھے حالانکہ اصل کتابیں میں نے دیکھی ہیں، وہاں کچھ اور ہی لکھا ہے۔ مولوی صاحب میری بات سنتے ہی ناراض ہو گئے اور کہنے لگے تم کسی احمدی کے پاس گئے ہی کیوں تھے۔ میں نے کہا تم یہ بتاؤ تم نے جھوٹ کیوں بولا۔ آخر وہ مولوی صاحب مجھ سے سخت ناراض ہو گئے اور میں نے سمجھا کہ اب مجھے تحقیق کرنی چاہیئے۔ پندرہ میں دن تحقیق کی تو حق مجھ پر کھل گیا اور میں بیعت کیلئے تیار ہو گیا۔ دیکھو یہ مخالفت ہی تھی جو اُسے اِدھر لانے کا ذریعہ بنی کیونکہ اس کے احمدی بنانے کا