خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 117

خطبات محمود 114۔سال ۴۱۹۳۴ کر پیارا نہ سمجھوتے۔اب جس چیز پر اس نے ناز کیا تھا اور سمجھا تھا کہ محبت کا بہت بلند مقام اسے حاصل ہو چکا ہے، وہی چیز اس کا نقص ٹھری۔اس نے خیال کیا تھا کہ رسول کریم ﷺ کو اپنی جان کی طرح عزیز سمجھنا ہی کافی ہے مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تک اپنی جان سے بھی بڑھ کر مجھے عزیز نہ سمجھو ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔چونکہ وہ ایمان کے رستہ پر چل رہا تھا اس لئے اس نے سنتے ہی کہا یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز ہو گئے ہیں اور اس طرح اُسی وقت اس کی اصلاح ہو گئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک نیک نیت انسان کو جس وقت بھی اس کی غلطی سے آگاہ کیا جائے، وہ اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔یہ محاسبہ انسان کیلئے بہت مفید ہوتا ہے مگر محاسبہ کامل ہونا چاہیے۔یعنی ایمان کا بھی اور اعمال کا بھی، تب مفید ہو سکتا ہے۔چونکہ آج تین بجے کی گاڑی سے بہت سے دوست لائل پور جانے والے ہیں اس لئے میں خطبہ کو مختصر کرتا ہوں۔گو سچی بات یہ ہے کہ مجھ میں زیادہ خطبہ پڑھنے کی اِس وقت ہمت بھی نہیں۔میں گھر سے تو اسی نیت سے چلا تھا کہ خطبہ خود پڑھاؤں گا مگر رستہ میں مجھے تکلیف ہو گئی اور میں نے محسوس کیا کہ میں نے غلطی کی جو خطبہ پڑھانے کیلئے آگیا۔پس زیادہ تر وجہ تو صحت کی خرابی ہے لیکن چونکہ دوستوں کی روانگی کا بھی احساس ہے اس لئے میں اسی پر اکتفاء کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اپنے عقائد و اعمال دونوں کو درست رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل ۱۲- اپریل ۱۹۳۴ء)۔له مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحه ۴۴۲ میں یہ الفاظ آئے ہیں من قال لا اله الا الله وحده لا شريك له دخل الجنة له بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الايمان سے