خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 112

خطبات محمود שון سال ۱۹۳۴ء مشاورت میں چونکہ نمائندے مخاطب ہوں گے اس لئے دوسروں کے واسطے میں نے یہ خطبہ وقف کر دیا ہے تا سب کو فائدہ ہو جائے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے اندر لہر کی کیفیت پیدا کرے، وگرنہ کام ادھورا ہو گا۔ ہو گا تو ضرور کیونکہ یہ خدا کا کام ہے اور اُسی نے اسے کرنے کا وعدہ کیا ہے مگر ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنے اعمال میں استقلال اور حرکات میں لہریں پیدا کریں اور تنزلی کو ترقی کا موجب قرار دیں۔ حضرت معاویہ" کے متعلق لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ کی صبح کی نماز رہ گئی اس پر آپ سارا دن روتے رہے۔ اگلی صبح خواب میں کوئی انہیں جگا رہا تھا کہ اُٹھو نماز کا وقت ہے۔ انہوں نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا شیطان ہوں۔ آپ نے کہا کہ شیطان اور نماز نماز کیلئے جگائے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ گل تمہاری نماز رہ گئی تو تم اس قدر روئے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ایک نماز کے رہ جانے کا میرے اس بندے کو اتنا صدمہ ہوا ہے، اسے سو باجماعت نمازوں کا ثواب دے دیا جائے۔ آج میں اس لئے جگا رہا ہوں کہ ایک ہی نماز کا ثواب ملے ایسا نہ ہو کہ گل کی طرح سو کا ثواب حاصل کر لو یہ ایک کشفی نظارہ ہے جو ایک اعلیٰ روحانیت والے کو نظر آیا۔ یہی حالت ہو تو ترقی حاصل ہوتی ہے۔ ان کی نماز کا رہ جانا قبض کی حالت تھی مگر آپ نے اسے یونہی نہیں چھوڑ دیا اور یہ خیال نہیں کر لیا کہ خدا نے اس غفلت کو معاف کیا ہے اور یہ میری طاقت سے باہر تھی کیونکہ سوتے ہوئے آدمی کا کیا اختیار ہوتا ہے۔ بلکہ آپ نے ایسی توبہ کی کہ آپ کا قدم پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے کی طرف بڑھ گیا۔ تو حالت قبض کو بھی ترقیات کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے اور جب تک یہ حالت پیدا نہ ہو کوئی جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔ کمزوریاں ہونا کوئی خطرہ کی بات نہیں۔ خطرہ اس بات کا ہونا چاہیے کہ وہ کمزوریاں ہمیں نیچے نہ لے جائیں۔ اگر کامل ندامت پیدا ہو جو اللہ تعالیٰ کی محبت کو کھینچے تو ایسی کمزوری بھی رحمت ہو جاتی ہے۔ پس اس حالت کو اپنے اندر پیدا کرو اسی سے کامیابی ہو سکتی ہے وگرنہ چند لوگوں کا مل کر مشورہ کر لینا چنداں نفع نہیں دے سکتا۔ خطبہ ثانیہ میں فرمایا :- دوسرا خطبہ بھی خطبہ ہی ہوتا ہے بلکہ یہ زیادہ اہم خطبہ ہوتا ہے کیونکہ اس کا اکثر حصہ انہیں الفاظ میں پڑھا جاتا ہے جو رسول کریم اللہ سے مروی ہیں اور جو بہت زیادہ بابرکت ہیں۔ حضرت خلیفہ اول تو ایسے مسائل اکثر بیان فرماتے رہتے تھے میں بھی بتاتا رہتا ہوں مگر